Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Hud 11:23

11:23
ان الذين امنوا وعملوا الصالحات واخبتوا الى ربهم اولايك اصحاب الجنة هم فيها خالدون ٢٣
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَأَخْبَتُوٓا۟ إِلَىٰ رَبِّهِمْ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ ٢٣
إِنَّ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَعَمِلُواْ
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
وَأَخۡبَتُوٓاْ
إِلَىٰ
رَبِّهِمۡ
أُوْلَٰٓئِكَ
أَصۡحَٰبُ
ٱلۡجَنَّةِۖ
هُمۡ
فِيهَا
خَٰلِدُونَ
٢٣
Surely those who believe, do good, and humble themselves before their Lord will be the residents of Paradise. They will be there forever.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

اس کے مقابلے میں اہل ایمان ہیں اور وہ لوگ جو ایمان کے بعد عمل صالح بھی رکھتے ہیں ، وہ اپنے رب کی جانب سے بےحد مطمئن ہوں گے ، انہیں پورا وثوق ہوگا کہ ان کے اعمال صالح کا پورا پورا اجر ملے گا۔ نہایت ہی پرسکون ، ہر قسم کی پریشانیوں اور شکو وں سے دور۔

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْٓا۔ اخبات کے معنی ہیں اطمینان ، استقرار وثوق اور تسلیم و رضا۔ یہ لفظ ایک حقیقی مومن اور اس کے رب کے درمیان پائے جانے والے تعلق کی بہت ہی اچھی تصویر کشی کرتا ہے۔ مومن مکمل طور پر اللہ کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔ اس کی طرف سے اس پر جو حالت بھی آتی ہے اس پر مطمئن ہوتا ہے اس کے نفس میں ایک ٹھہراؤ ہوتا ہے ، اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور اسے امن ، قرار اور رضا کی کیفیت مل جاتی ہے۔

اب دونوں پر تبصرہ دیکھیے (اگلی آیت میں)