Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: An-Nahl 16:122

16:122
واتيناه في الدنيا حسنة وانه في الاخرة لمن الصالحين ١٢٢
وَءَاتَيْنَـٰهُ فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةًۭ ۖ وَإِنَّهُۥ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ ١٢٢
وَءَاتَيۡنَٰهُ
فِي
ٱلدُّنۡيَا
حَسَنَةٗۖ
وَإِنَّهُۥ
فِي
ٱلۡأٓخِرَةِ
لَمِنَ
ٱلصَّٰلِحِينَ
١٢٢
We blessed him with all goodness in this world,1 and in the Hereafter he will certainly be among the righteous.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 16:121 to 16:122

شاکر الانعمہ (61 : 121) ” وہ اللہ کی نعمتوں پر شکر گزار تھے “۔ قول کے ساتھ بھی اور عمل کے ساتھ بھی۔ جبکہ مشرکین مکہ زبانی طور پر بھی اللہ کے انعامات کی ناشکری کرتے ہیں اور عملاً بھی کفران نعمت کرتے ہیں۔ اس طرح کہ وہ اللہ کے انعامات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ اور محض اوہام اور خواہشات کے نتیجے میں اللہ کی بعض نعمتوں کو اپنے اوپر حرام کرتے ہیں۔

اجتبہ (61 : 121) ” اللہ نے انہیں چن لیا “۔

وھدہ الی صراط مستقیم (61 : 121) ” اور اسے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دی “ اور صراط مستقیم خالص اور سیدھی توحید کی راہ ہے۔ یہ ہیں حضرت ابراہیم جن کے ساتھ یہودی بھی تعلق جوڑتے ہیں اور جن کے ساتھ مشرکین مکہ بھی اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں۔