Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Isra 17:30

17:30
ان ربك يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر انه كان بعباده خبيرا بصيرا ٣٠
إِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ بِعِبَادِهِۦ خَبِيرًۢا بَصِيرًۭا ٣٠
إِنَّ
رَبَّكَ
يَبۡسُطُ
ٱلرِّزۡقَ
لِمَن
يَشَآءُ
وَيَقۡدِرُۚ
إِنَّهُۥ
كَانَ
بِعِبَادِهِۦ
خَبِيرَۢا
بَصِيرٗا
٣٠
Surely your Lord gives abundant or limited provisions to whoever He wills. He is certainly All-Aware, All-Seeing of His servants.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

وہ اچھی طرح دیکھ کر کسی کو رزق میں راوانی دیتا ہے ، اور اچھی طرح دیکھ کر اور جان کر کسی کو رزق میں تنگ کرتا ہے ۔ وہ میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اور بخل و اسراف کی ممانعت کرتا ہے اس لئے کہ وہ تمام حالات میں لوگوں کے بارے خبیر وبصیر ہے اور سب کچھ جانتا ہے اس لئے وہ اپنے علم کے مطابق حکم دیتا ہے۔ اور اس نے یہ قرآن نازل ہی اس لئے کیا ہے کہ تمام حالات میں یہ اچھی او سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔

اہل جاہلیت اپنی لڑکیوں کو قتل کردیتے تھے ، اس ڈر سے کہ وہ ان پر بوجھ بن کر ان کو معاشی لحاظ سے کمزور کردیں گی اور ان کے لئے ان کا سنبھالنا مشکل ہوگا۔ سابقہ آیت میں چونکہ یہ حقیقت بتا دی گئی تھی کہ رزق کی فراوانی اور تنگی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے یہاں صاف صاف کہہ دیا کہ اب تم لوگ اولاد کو معاشی زاویہ سے نہ دیکھو۔ کثرت اولاد یا لڑکیوں کی وجہ سے کوئی غریب نہیں ہوگا۔ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا اکثرت نسل یا کثرت اقسام نسل کے نتیجے میں معاشی تنگی نہیں ہوگی اور نہ افراد خانہ کم ہونے کی وجہ سے کوئی معاشی لحاظ سے خوشحال ہوگا۔