Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Kahf 18:45

18:45
واضرب لهم مثل الحياة الدنيا كماء انزلناه من السماء فاختلط به نبات الارض فاصبح هشيما تذروه الرياح وكان الله على كل شيء مقتدرا ٤٥
وَٱضْرِبْ لَهُم مَّثَلَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَآءٍ أَنزَلْنَـٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخْتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًۭا تَذْرُوهُ ٱلرِّيَـٰحُ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ مُّقْتَدِرًا ٤٥
وَٱضۡرِبۡ
لَهُم
مَّثَلَ
ٱلۡحَيَوٰةِ
ٱلدُّنۡيَا
كَمَآءٍ
أَنزَلۡنَٰهُ
مِنَ
ٱلسَّمَآءِ
فَٱخۡتَلَطَ
بِهِۦ
نَبَاتُ
ٱلۡأَرۡضِ
فَأَصۡبَحَ
هَشِيمٗا
تَذۡرُوهُ
ٱلرِّيَٰحُۗ
وَكَانَ
ٱللَّهُ
عَلَىٰ
كُلِّ
شَيۡءٖ
مُّقۡتَدِرًا
٤٥
And give them a parable of this worldly life. ˹It is˺ like the plants of the earth, thriving when sustained by the rain We send down from the sky. Then they ˹soon˺ turn into chaff scattered by the wind. And Allah is fully capable of ˹doing˺ all things.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

یہ منظر درحقیقت ایک مختصر جھلکی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو بتایا جائے کہ یہ دنیا فانی ہے۔ آسمانی سے پانی برستا ہے ، یہ پانی نہ بہتا ہے اور نہ سیلاب کی شکل اختیار کرتا ہے بلکہ یہ براہ راست نباتات کے ساتھ مختلط ہوجاتی ہے اور یہ نباتات ابھی پوری طرح نشو و نما نہیں پاتے اور پکتے ہی نہیں کہ یہ ایک بھوسے کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور وہ دیکھو ہوا اس بھوسے کو اڑائے پھرتی ہے۔ غرض تین مختصر ترین جملوں میں زندگی کی کہانی کہہ دی جاتی ہے۔

یہاں تین فقروں کے اندر مختصر ترین جملوں میں زندگی کی کہانی کہہ دی جاتی ہے۔

یہاں تین فقروں کے اندر مختصر ترین انداز میں پوری زندگی کی کہانی کہہ دی اور پھر یہ کہا کہ زندگی بہت ہی مختصر ہے۔ کس قدر مختصر اور کس قدر آسان بس

کماء انزلناہ من السماء فاختلط بہ نبات الارض (81 : 53) ” اس پانی کی طرح جسے ہم نے آسمان سے برسا دیا تو زمین کی پود خوب گھنی ہوگئی ‘ دنیائے فانی کی زندگی کی یہ مختصر جھلکی دکھانے کے بعد ، اب قرآن مجید زندگی کی دائمی قدر بن بتاتا ہے ، جن کو لوگوں مسعبد سمجھتے ہیں لیکن وہ باقی رہنے والی قدریں ہیں اور جن کو اہمیت دی جانی چاہئے۔