Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Maryam 19:35

19:35
ما كان لله ان يتخذ من ولد سبحانه اذا قضى امرا فانما يقول له كن فيكون ٣٥
مَا كَانَ لِلَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍۢ ۖ سُبْحَـٰنَهُۥٓ ۚ إِذَا قَضَىٰٓ أَمْرًۭا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ٣٥
مَا
كَانَ
لِلَّهِ
أَن
يَتَّخِذَ
مِن
وَلَدٖۖ
سُبۡحَٰنَهُۥٓۚ
إِذَا
قَضَىٰٓ
أَمۡرٗا
فَإِنَّمَا
يَقُولُ
لَهُۥ
كُن
فَيَكُونُ
٣٥
It is not for Allah to take a son! Glory be to Him. When He decrees a matter, He simply tells it, “Be!” And it is!
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

ماکان ۔۔ من ولد (91 : 53) ” اللہ کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے “۔ وہ اس سے بہت بلند ہے۔ اس کا یہ کام نہیں ہے اور نہ اس کو اس کی ضرورت ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔ بیٹا تو ان لوگوں کی ضرورت ہے جو فنا ہونے والے ہیں۔ وہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے کسی کو اپنا بیٹا بناتے ہیں ‘ پھر ایک ضعیف والد کو آخری عمر میں مدد کے لئے بیٹے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ باقی اور لازوال ہے ‘ وہ قادر مطلق ہے ‘ کسی کا محتاج نہیں ہے اور تمام کائنات اس کے کلمہ کن سے بنتی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے ہوجاتا ‘ محض اس کا ارادہ اس طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے ‘ لہٰذا اسے نہ اولاد اور نہ شریک کی ضرورت ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی بات اس پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ‘ لہٰذا صرف اسی خدائے واحد کی عبادت کرو۔