Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Anbiya 21:77

21:77
ونصرناه من القوم الذين كذبوا باياتنا انهم كانوا قوم سوء فاغرقناهم اجمعين ٧٧
وَنَصَرْنَـٰهُ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَآ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمَ سَوْءٍۢ فَأَغْرَقْنَـٰهُمْ أَجْمَعِينَ ٧٧
وَنَصَرۡنَٰهُ
مِنَ
ٱلۡقَوۡمِ
ٱلَّذِينَ
كَذَّبُواْ
بِـَٔايَٰتِنَآۚ
إِنَّهُمۡ
كَانُواْ
قَوۡمَ
سَوۡءٖ
فَأَغۡرَقۡنَٰهُمۡ
أَجۡمَعِينَ
٧٧
And We made him prevail over those who had rejected Our signs. They were truly an evil people, so We drowned them all.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 21:76 to 21:77

اسی طرح یہاں حضرت نوح کی طرف بھی ایک سرسری اشارہ کردیا جاتا ہے۔

ونوحا اذ نادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اجمعین (67 : 77) ”

حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف بھی یہ مختصر اشارہ ہے ‘ جس میں کوئی تفصیل نہیں ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے رب کو پکارا اور رب نے ان کی دعا کو قبول کیا یہاں ” من قبل “۔ کا لفظ آیا ہے یعنی ” سب سے پہلے “ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہما السلام) سے ان کا دور پہلے گزرا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے ہل و عیال کو بچالیا اور ان کی پوری قوم نذر طوفان ہوگئی کرب عظیم سے مراد وہ مشکلات ہیں جو ان کو پیش آئیں۔ سورة ہود میں تفصیلات موجود ہیں۔