Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Anbiya 21:90

21:90
فاستجبنا له ووهبنا له يحيى واصلحنا له زوجه انهم كانوا يسارعون في الخيرات ويدعوننا رغبا ورهبا وكانوا لنا خاشعين ٩٠
فَٱسْتَجَبْنَا لَهُۥ وَوَهَبْنَا لَهُۥ يَحْيَىٰ وَأَصْلَحْنَا لَهُۥ زَوْجَهُۥٓ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ يُسَـٰرِعُونَ فِى ٱلْخَيْرَٰتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًۭا وَرَهَبًۭا ۖ وَكَانُوا۟ لَنَا خَـٰشِعِينَ ٩٠
فَٱسۡتَجَبۡنَا
لَهُۥ
وَوَهَبۡنَا
لَهُۥ
يَحۡيَىٰ
وَأَصۡلَحۡنَا
لَهُۥ
زَوۡجَهُۥٓۚ
إِنَّهُمۡ
كَانُواْ
يُسَٰرِعُونَ
فِي
ٱلۡخَيۡرَٰتِ
وَيَدۡعُونَنَا
رَغَبٗا
وَرَهَبٗاۖ
وَكَانُواْ
لَنَا
خَٰشِعِينَ
٩٠
So We answered his prayer, granted him John, and made his wife fertile. Indeed, they used to race in doing good, and call upon Us with hope and fear, totally humbling themselves before Us.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 21:89 to 21:90

حضرت یحییٰ کی پیدائش کا قصہ سورة مریم اور سورة آل عمران میں گزر چکا ہے ، بڑی تفصیلات کے ساتھ یہاں دوسرے قصص کی طرح فقط اشارات ہی ہیں۔ اس کا آغاز حضرت زکریا کی اس دعا سے ہوتا ہے۔

رب لاتذرنی فرداً (21 : 89) ” پروردگار ، مجھے اکیلا نہ چھوڑ “۔ کہ میرا کوئی وارث نہ ہو ، جو میرے بعد ہیکل کے معاملات کا نگراں ہو۔ حضرت زکریا بنی اسرائیل کے ہیکل (عبادت گاہ) کے نگراں تھے۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت سے پہلے کا واقعہ ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ عبادات ، مقامات ، عبادات اور تمام لوگوں کے اموال کا آخری وارث تو اللہ ہی ہے۔ اسی لئے انہوں نے کہہ دیا۔

وانت خیر الورثین (21 : 89) ” اور بہترین وارث تو تو ہی ہے “ لیکن ان کا اصل مدعا یہ تھا کہ ان کے بعد ان کے اہل و عیال کے لئے ، ان کے دین کے لئے اور ان کے مال کے لئے ، ان کو اچھا جانشین ملے کیونکہ خلافت ارضی میں انسان ہی دست قدرت کا کام کرتا ہے۔ قبولیت دعا بھی فوراً ہی ہوتی ہے۔

فاستجبنا لہ و ھبنا لہ یحییٰ و اصلحنا لہ زوجہ (21 : 90) ” پس ہم نے اس کی دعا قبول کرلی۔ اسے یحییٰ عطا کیا اور اس کی بیوی کو اس کے لئے درست کردیا۔ “ وہ بانجھ تھی ولادت کے قابل ہی نہ تھی لیکن یہاں دوسرے قصص کی طرح سیاق کلام میں اختصار کر کے قاری کو انجام یعنی استجابت دعا تک پہنچا دیا جاتا ہے۔

انھم کانوا یسرعون فی الخیرت (21 : 90) ” یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے تھے۔ “ تو اللہ نے قبولیت دعا میں جلدی فرمائی۔

ویدعوننا رغباً و رھباً (21 : 90) ” اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے۔ “ رغبت اس لئے کہ اللہ راضی ہوجائے اور ڈر اس کا کہ اللہ ناراض نہ ہوجائے۔ ان کے دل اللہ کے ساتھ پختہ رابطہ رکھتے تھے ۔ اللہ کی رحمت کے وہ ہر وقت امیدوار رہے تھے۔

وکانوالنا خشعین (21 : 90) ” اور وہ ہمارے آگے جھکے ہوئے تھے۔ “ نہ تکبر کرتے تھے اور نہ ہمارے مقابلے میں زور آور تھے۔ یہ تھیں وہ صفات جن کی وجہ سے حضرت زکریا ، بیگم زکریا (علیہ السلام) اس بات کے مستحق ہوئے کہا نہیں غیر معمولی طور پر یحییٰ جیسا غیر معمولی لڑکا دیا جائے۔ یوں یہ ایک مبارک خاندان تھا ، اللہ کی رحمت و رضا کی مستحق۔

سب سے آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے ان کے والدہ حضرت مریم کا ذکر بھی آتا ہے ، اسی اختصار کے ساتھ۔