Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Hajj 22:56

22:56
الملك يوميذ لله يحكم بينهم فالذين امنوا وعملوا الصالحات في جنات النعيم ٥٦
ٱلْمُلْكُ يَوْمَئِذٍۢ لِّلَّهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ ۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فِى جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ ٥٦
ٱلۡمُلۡكُ
يَوۡمَئِذٖ
لِّلَّهِ
يَحۡكُمُ
بَيۡنَهُمۡۚ
فَٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَعَمِلُواْ
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
فِي
جَنَّٰتِ
ٱلنَّعِيمِ
٥٦
All authority on that Day is for Allah ˹alone˺.1 He will judge between them. So those who believe and do good will be in the Gardens of Bliss.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 22:55 to 22:57

ولا یزال ……مھین (65)

یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو اس قرآن کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس مضمون کا ذکر اس تصریح کے بعد کیا ہے کہ انبیاء و رسل دعوت کے سلسلے میں نہایت شوق اور تمنا رکھتے ہیں اور شیطان ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتا ہے کیونکہ لوگ جن کے بارے میں انبیاء تمنا کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں شک رہتا ہے اس لئے کہ ان کے دلوں کے اندر دعوت اسلامی اچھی طرح بیٹھ نہیں سکی۔ یہ اسی طرح شک میں رہیں گے یہاں تک کہ اچانک قیامت آجائے یا ان پر کوئی منحوس دن آجائے۔ یعنی قیامت کے بعد کا عذاب قیامت کے دن کے لئے یوم عظیم استعمال ہوا ، کیونکہ اس کے بعد کوئی دوسرا دن نہ ہوگا۔

اس دن میں تمام اختیارات اللہ وحدہ کے پاس ہوں گے یہاں کسی کی بادشاہت نہ ہوگی۔ دنیا کی ظاہری بادشاہت بھی کسی کے پاس نہ ہوگی۔ صرف اللہ کا حکم چلے گا۔ اس دن تمام لوگوں کے فیصلے ان کی مقررہ جزاء عمل کے مطابق اللہ کرے گا۔

فالذین امنوا و عملوا الصلحت فی جنت النعیم (22 : 65) ” جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے وہ جنات نعیم (نعمتوں والی جنتوں) میں ہوں گے۔ “

والذین کفروا و کذبوا بایتنا فائولئک لھم عذاب مھین (22 : 85) ” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہوگا ، ان کے لئے رسوا کن عذاب ہوگا۔ “