Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Mu'minun 23:72

23:72
ام تسالهم خرجا فخراج ربك خير وهو خير الرازقين ٧٢
أَمْ تَسْـَٔلُهُمْ خَرْجًۭا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَيْرٌۭ ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ ٧٢
أَمۡ
تَسۡـَٔلُهُمۡ
خَرۡجٗا
فَخَرَاجُ
رَبِّكَ
خَيۡرٞۖ
وَهُوَ
خَيۡرُ
ٱلرَّٰزِقِينَ
٧٢
Or ˹is it because˺ you ˹O Prophet˺ are asking them for tribute? But the reward of your Lord is best, for He is the Best Provider.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

ام تسئلھم خرجا (23 : 72) ” کیا تو ان سے کچھ مانگ رہا ہے “ کیا اس ہدایت وتعلیم کی کوئی بھاری فیس تم مانگ رہے ہو اور وہ اس کی ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتے اور اس سے بھاگ رہے ہیں۔ تم تو ان سے کچھ بھی طلب نہیں کرتے ہو کیونکہ تمہارا اجر تو اللہ ہے۔

فخراج ربک خیر وھو خیر الرزقین (23 : 72) ” تیرے لیے تو رب یکا دیا بہتر ہے اور وہ بہترین رازق ہے “۔ کوئی نبی لوگوں سے کسی معاوضے کا طلبگار نہیں ہوتا جبکہ انسان بہت ہی ضیعف ، فقیر اور محتاج ہوتے ہیں ۔ نبی تو اللہ سے متصل اور مربوط ہوتا ہے جس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے بلکہ نبی کے معبین بھی اس دنیا کے مفادات میں سے کسی مفاد کے طلبگار نہیں ہوتے کیونکہ ان کی نظریں بھی اس اجر پر ہوتی ہیں جو اللہ کے ہاں ان کے لیے تیار ہے اور دنیا میں تو قلیل ہو یا کثیر ہو ، وہ اس پر راضی ہوتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ جب انسان کی روح اللہ سے مل جائے تو اس کے لیے پھر یہ کام پوری کائنات اور پر کہ کے برابر نہیں رہتی۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ تو ان لوگوں کی رہنمائی اس نظام کی طرف کررہے ہیں جو نہایت ہی مستخکم ہے۔