Sign in
Sign in
Sign in
Select Language
26:128
اتبنون بكل ريع اية تعبثون ١٢٨
أَتَبْنُونَ بِكُلِّ رِيعٍ ءَايَةًۭ تَعْبَثُونَ ١٢٨
أَتَبۡنُونَ
بِكُلِّ
رِيعٍ
ءَايَةٗ
تَعۡبَثُونَ
١٢٨
˹Why˺ do you build a landmark on every high place in vanity,
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 26:123 to 26:135

عاد وہ قوم ہے جس کو قوم نوح کی تباہی کے بعد دنیا میں عروج ملا (الاعراف، 7:69 )۔ اس قوم کو اللہ تعالیٰ نے صحت، فارغ البالی اور اقتدار ہر چیز عطا فرمائی۔ ان چیزوں پر اگر وہ شکر کرتے تو ان کے اندر تواضع کا جذبہ ابھرتا۔ مگر انھوں نے اس پر فخر کیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے ليے اپنے وسائل کا سب سے زیادہ پسندیدہ مصرف یہ بن گیا کہ وہ اپنے معیارِ زندگی کو بڑھائیں۔ وہ اپنے نام کو اونچا کریں۔ وہ اپنی عظمت کے سنگی نشانات قائم کرنے کو سب سے بڑا کام سمجھنے لگیں۔

ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتاہے کہ جب انھیں کسی سے اختلاف یا شکایت ہوجائے تو ان کی متکبرانہ نفسیات انھیں کسی حد پر رکنے نہیں دیتی۔ وہ اس کے خلاف ہر بے انصافی کو اپنے ليے جائز کرلیتے ہیں۔ وہ اس کو اپنی پوری طاقت سے پیس ڈالنا چاہتے ہیں۔ دنیا کی درستگی انھیں آخرت کی پکڑ سے بے خوف کردیتی ہے اور جو شخص اپنے آپ کو آخرت کی پکڑ سے محفوظ سمجھ لے، دوسرے لوگ اس کی پکڑ سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔

جن لوگوں کو خوش حالی اور برتری حاصل ہوجائے ان کے اندر اپنے بارے میں جھوٹا اعتماد پیداہوجاتا ہے۔ یہ جھوٹا اعتماد ان کے ليے اپنے سے باہر کی صداقت کو سمجھنے میں مانع بن جاتا ہے۔ وہ ناصح کی بات کو اہمیت نہیں دیتے، خواہ وہ کتنا ہی قابل اعتبار کیوں نہ ہو، خواہ وہ خدا کا رسول ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے لوگ اسی وقت مانتے ہیں جب کہ خدا کا عذاب انھیں ماننے پر مجبور کردے۔