Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Ash-Shu'ara 26:219

26:219
وتقلبك في الساجدين ٢١٩
وَتَقَلُّبَكَ فِى ٱلسَّـٰجِدِينَ ٢١٩
وَتَقَلُّبَكَ
فِي
ٱلسَّٰجِدِينَ
٢١٩
as well as your movements ˹in prayer˺ along with ˹fellow˺ worshippers.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 26:217 to 26:220

و توکل ……العلیم (62 : 22) ” ان کو ان کی نافرمانیوں کے اندر چھوڑ دیں اور ان کے اعمال سے اپنی برات کا اظہار کردیں اور اپنے رب پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوں اور ہر معاملے میں رب مکریم سے استعانت طلب فرمائیں۔ یہاں اللہ کی دو صفات بیان کی گئی ہیں جو اس سورت میں بار بار آتی ہیں یعنی صفت عزت اور صفت رحمت اس کے بعد قلب رسول اللہ ﷺ کو انس اور محبت کا شعور دیا جاتا ہے کہ تمہارا رب تمہیں اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم اکیلے نماز میں ہوتے ہو اور اس وقت بھی دیکھ رہا ہے جب تم نمازیوں کے اندر ہوتے ہو۔ یعنی وحدت کی حالت میں بھی تمہیں دیکھ رہا ہے اور اجتماعی حالت میں بھی اس کی نظر تم پر ہے۔ یعنی جب تم ساجدین یعنی اہل ایمان کے اندر ہوتے ہو ، ان کی تربیت کرتے ہو ، ان کی امامت کرتے اور انہیں خطبہ دیتے ہو ، اللہ آپ کی حرکات و سکناء کی نگرانی کر رہا ہے اور آپ کے دعوتی کام اور درپیش خطرات کو بھی دیکھ رہا ہے وہ سمیع و علم ہے۔

اس انداز تعبیر میں نبی ﷺ کے اندر یہ شعور پیدا کرنا مطلوب ہے کہ اللہ آپ کے قریب ہے ، دیکھ رہا ہے اور عنایات کر رہا ہے۔ یوں رسول اللہ یہ یقین رکھتے تھے کہ آپ اللہ کی حفاظت میں ہیں۔ اللہ کے جوار رحمت میں ہیں۔ چناچہ اس خوشگوار ماحول محبوت میں آپ زندگی بسر کرتے تھے۔

اس سورت کا یہ آخری سبق زیادہ تر قرآن کے بارے میں ہے۔ اس کے بارے میں ایک تاکید تو یہ کی گئی کہ یہ رب العالمین کی طر سے ہے۔ دوسری یہ کہ روح للامین اسے لے کر آئے تیسری یہ کہ اس کے نزول میں شیاطین کا کوئی دخل نہیں ہو سکتا اور یہاں پھر تاکید کی جاتی ہی کہ شیاطین حضرت محمد ﷺ پر کیسے اتر سکتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ تو سچے ، امین اور ایک پاک و صاف زندگی بسر کرنے والے ہیں۔ شیاطین تو جھوٹوں ، کذابوں ، بدکرداروں اور دھوکہ باز کاہنوں پر اترتے ہیں اور یہ تو کاہن اور گمراہ مذہبی پیشوا ہیں جو شیطانی باتیں لے کر اور ان میں رنگ بھر کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔