Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-'Ankabut 29:4

29:4
ام حسب الذين يعملون السييات ان يسبقونا ساء ما يحكمون ٤
أَمْ حَسِبَ ٱلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَسْبِقُونَا ۚ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ ٤
أَمۡ
حَسِبَ
ٱلَّذِينَ
يَعۡمَلُونَ
ٱلسَّيِّـَٔاتِ
أَن
يَسۡبِقُونَاۚ
سَآءَ
مَا
يَحۡكُمُونَ
٤
Or do the evildoers ˹simply˺ think that they will escape Us? How wrong is their judgment!
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

رہے وہ لوگ جو اہل ایمان پر ظلم کرکے ان کو آزماتے ہیں اور برے کام کرتے ہیں تو وہ تو عذاب الٰہی سے بچ ہی نہیں سکتے۔ اگرچہ ان کی باطل قوتیں بہت پھلی پھولی ہوں۔ اگرچہ بظاہر وہ کامیاب و فاتح ہوں۔ اللہ کا وعدہ یہ ہے اور آخر کار اس کی سنت یہ ہے

ام حسب الذین ۔۔۔۔۔۔ ما یحکمون (4) ” اور کیا وہ لوگ جو بری حرکتیں کر رہے ہیں ، یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے ؟ بڑا غلط حکم ہے جو وہ لگا رہے ہیں “۔

کسی مفسد کو یہ خیال نہیں رکھنا چاہئے کہ وہ بچ نکلے گا یا بھاگ جائے گا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے تو اس کا یہ فیصلہ غلط ہے۔ اس نے غلط اندازہ کیا ہے ، اس کی سوچ پوچ ہے۔ کیونکہ اللہ نے اہل ایمان کی آزمائش کو ایک سنت بنایا ہے لیکن یہ اس لیے کہ سچے اور جھوٹے معلوم ہوجائیں ، اس کی سنت کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ وہ بدکاروں کو پکڑتا ہے اور اس کی سنت کبھی بدلتی نہیں ہے۔

یہ اس سورت کے آغاز ہی میں ایک دوسری ضرب ہے ، کہ آنکھیں کھول لو ، اگر اہل ایمان کو آزمائش کی بھٹی سے گزارنا اور کھوٹے اور کھرے کے درمیان تمیز کرنا خدا کی سنت ہے تو بدکاروں اور مفسدوں کو پکڑنا بھی تو اللہ کی سنت ہے اس کے لیے بھی تیاریاں کو لو۔ اور تیسری ضرب ، اس سورت کے آغاز میں یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ سے ملنے کا یقین ہے وہ اطمینان رکھیں اور یقین کرلیں جس طرح ان کے دل یقین کے درجے تک پہلے ہی پہنچ چکے ہیں کہ وقت آنے والا ہے۔