Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-'Ankabut 29:65

29:65
فاذا ركبوا في الفلك دعوا الله مخلصين له الدين فلما نجاهم الى البر اذا هم يشركون ٦٥
فَإِذَا رَكِبُوا۟ فِى ٱلْفُلْكِ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمْ إِلَى ٱلْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ ٦٥
فَإِذَا
رَكِبُواْ
فِي
ٱلۡفُلۡكِ
دَعَوُاْ
ٱللَّهَ
مُخۡلِصِينَ
لَهُ
ٱلدِّينَ
فَلَمَّا
نَجَّىٰهُمۡ
إِلَى
ٱلۡبَرِّ
إِذَا
هُمۡ
يُشۡرِكُونَ
٦٥
If they happen to be aboard a ship ˹caught in a storm˺, they cry out to Allah ˹alone˺ in sincere devotion. But as soon as He delivers them ˹safely˺ to shore, they associate ˹others with Him once again˺.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

فاذا رکبوا فی ۔۔۔۔ اذاھم یشرکون (29: 66) . یہ بھی ان کے عقائد کا بہت بڑا تضاد ہے۔ ان کے عقائد اس قدر ڈانواں ڈول ہوتے ہیں کہ جب کشتی پر وہ گہرے سمندر میں ہوتے ہیں اور یہ جہاز بحری امواج کے تلاطم میں ایک کھلونا بن جاتا ہے اور ان پر خوف طاری ہوتا ہے تو وہ اللہ کے سوا کسی کو نہیں پکارتے۔ اس وقت ان کو یہ ادراک ہوتا ہے کہ اصل قوت تو صرف اللہ ہی کی قوت ہے۔ پھر ان کی سوچ میں بھی اللہ وحدہ ہوتا ہے اور اس کی زبان پر بھی اللہ وحدہ کا نام ہوتا ہے۔ اب وہ اپنی اس فطرت کے تابع ہوتے ہیں جو وحدانیت کا شعور رکھتی ہے ۔ لیکن جب اللہ ان کو بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو یہ لوگ اچانک پھر شرک کرنے لگتے ہیں اور وہ فطری شعور پھر دب جاتا ہے۔ اب اچانک وہ اس حالت کو بھول جاتے ہیں جس میں وہ اللہ وحدہ کو پکارتے تھے اور اقرار اور تسلیم کے بعد دوبارہ یہ لوگ شرک کی راہ پر پڑجاتے ہیں۔

اس بےراہ روی اور گمراہی کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ یہ کہ یہ لوگ ان انعامات کی ناشکری اور کفر کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو دئیے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اس فطری راہ سے منحرف ہوجاتے ہیں جو اللہ نے ان کی شخصیت کے اندر ودیعت کردی ہوئی ہے۔ ان فطری براہین کو نظر انداز کردیتے ہیں جن کو وہ مھسوس کرتے ہیں اور وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ حیات دنیا تو ایک محدود وقت تک کے لیے ایک سازو سامان ہے لیکن ان کو بہت جلد اپنے حقیقی انجام کا پتہ چل جائے گا۔ وہ بہت ہی برا انجام ہوگا۔