Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Ahzab 33:73

33:73
ليعذب الله المنافقين والمنافقات والمشركين والمشركات ويتوب الله على المومنين والمومنات وكان الله غفورا رحيما ٧٣
لِّيُعَذِّبَ ٱللَّهُ ٱلْمُنَـٰفِقِينَ وَٱلْمُنَـٰفِقَـٰتِ وَٱلْمُشْرِكِينَ وَٱلْمُشْرِكَـٰتِ وَيَتُوبَ ٱللَّهُ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتِ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۢا ٧٣
لِّيُعَذِّبَ
ٱللَّهُ
ٱلۡمُنَٰفِقِينَ
وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتِ
وَٱلۡمُشۡرِكِينَ
وَٱلۡمُشۡرِكَٰتِ
وَيَتُوبَ
ٱللَّهُ
عَلَى
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۗ
وَكَانَ
ٱللَّهُ
غَفُورٗا
رَّحِيمَۢا
٧٣
so that Allah will punish hypocrite men and women and polytheistic men and women, and Allah will turn in mercy to believing men and women. For Allah is All-Forgiving, Most Merciful.1 
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

لیعذب اللہ المنفقین ۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (73) ” “۔

وہ خصوصیات کیا ہیں جو انسان نے اپنے کاندھوں پر اٹھائیں ؟ یہ کہ اپنے آپ کو پہچانے ، اپنی قوت عقلیہ سے معرفت کردار حاصل کرے۔ بذات خود عمل کرے اور خود خدا تک پہنچے۔ یوں وہ اپنے اختیار کو صحیح استعمال کرے اور اپنے اعمال کی سزا اور جزاء کا ذمہ دار ہو۔ اس طرح منافقین اور منافقات سزا کے مستحق ہوں ، مشرکین اور مشرکات اپنے انجام تک پہنچیں اور اللہ مومنین و مومنات کی امداد کرے اور ان سے جو تقصیرات ، کمزروریاں ، ناتوانیاں صادر ہوں ان کو معاف کرے۔ کیونکہ انسان کی راہ میں ضعف ، کمزوری ، شہوات ، جذبات ، میلانات اور معاشرے کے تاثرات کی بیشمار رکاوٹیں ہیں اور اس کو اللہ کی رحمت اور مغفرت کی بےحد ضرورت ہے اور اللہ ہے بھی غفور و رحیم۔

اس عظیم تبصرے اور عقل و خرد کی تاروں پر آخری اور شدید ضرب سے اس سورة کا خاتمہ ہوتا ہے جس کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ اے نبی تم اللہ کی اطاعت کرو اور کفار اور منافقین کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ اللہ کی وحی اور اشاروں کے مطابق کام کرو ، اللہ پر بھروسہ کرو ، اور اللہ کے سوا کسی قوت پر تکیہ نہ کرو۔ اس کے بعد اسلامی نطام حیات کے لیے ضروری قانون سازی اور مملکت اسلامی کو عملی ہدایات دی گئی تھیں اور حکم تھا کہ اللہ کے قانون اور اللہ کی حکمت عملی پر چلو۔

اس آخری ضرب اور تبصرے میں یہ بتایا گیا کہ جو ذمہ داری انسان پر عائد ہو ، اس کا ذرا احساس کرے۔ یہ کس قدر عظیم ذمہ داری تھی ؟ کہ پہاڑ بھی اس کے اٹھانے سے کانپ اٹھے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح یہ کائنات اللہ کے ناموس کی مطیع ہے انسان طوعا اللہ کے ناموس تک رسائل حاصل کرکے مطیع ہوجائے اور اللہ کی مشیت کی اطاعت کرے۔

اس تبصرے پر سورة ختم ہوتی ہے ۔ اس کا آغاز اور اختتام دونوں باہم متناسب پاس اور پوری سورة اس آغاز اور اختتام کے رخ پر رواں دواں ہے۔ نہایت توافق کے ساتھ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہی ذات کریم اس کتاب کو بھیجنے والی ہے جو اس کائنات کو چلا رہی ہے۔