Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Saba 34:17

34:17
ذالك جزيناهم بما كفروا وهل نجازي الا الكفور ١٧
ذَٰلِكَ جَزَيْنَـٰهُم بِمَا كَفَرُوا۟ ۖ وَهَلْ نُجَـٰزِىٓ إِلَّا ٱلْكَفُورَ ١٧
ذَٰلِكَ
جَزَيۡنَٰهُم
بِمَا
كَفَرُواْۖ
وَهَلۡ
نُجَٰزِيٓ
إِلَّا
ٱلۡكَفُورَ
١٧
This is how We rewarded them for their ingratitude. Would We ever punish ˹anyone in such a way˺ except the ungrateful?
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

ذلک جزینھم۔۔۔۔۔۔ الا الکفور (17) یعنی کفران نعمت کی وجہ سے ان کو یہ سزا دی گئی۔

لیکن ابھی تک یہ لوگ اپنی بستیوں ہی میں رہ رہے تھے اگرچہ اس سیلاب کی وجہ سے ان کے رزق کے ذرائع محدود ہوگئے تھے۔ خوشحالی اور سہولیات کے بدلے بدحالی اور مشکلات معیشت نے جگہ لے لی تھی۔ لیکن ابھی تک ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے زمین کے اندر بکھیر نہ دیا گیا تھا۔ اور ان کی بستیوں اور برکت والی بستیوں مکہ مکرمہ اور بیت المقدس کے درمیان مواصلات کا سلسلہ باقی تھا۔ علاقہ سبا کے شمال میں یمن کا علاقہ بھی آباد تھا اور یمن مکہ اور مدینہ کے ذریعہ شام اور بیت المقدس سے جڑا ہوا تھا۔ یہ راہ مامون اور جاری تھی۔