Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Ya-Sin 36:36

36:36
سبحان الذي خلق الازواج كلها مما تنبت الارض ومن انفسهم ومما لا يعلمون ٣٦
سُبْحَـٰنَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلْأَزْوَٰجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ ٣٦
سُبۡحَٰنَ
ٱلَّذِي
خَلَقَ
ٱلۡأَزۡوَٰجَ
كُلَّهَا
مِمَّا
تُنۢبِتُ
ٱلۡأَرۡضُ
وَمِنۡ
أَنفُسِهِمۡ
وَمِمَّا
لَا
يَعۡلَمُونَ
٣٦
Glory be to the One Who created all ˹things in˺ pairs—˹be it˺ what the earth produces, their genders, or what they do not know!
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

سبحن الذی۔۔۔۔ مما لایعلمون (36: 36) ”

اللہ کی یہ تسبیح نہایت ہی موزوں وقت پر آتی ہے اور تسبیح کے ساتھ ساتھ یہ اس کائنات کی عظیم حقیقت کا اظہار بھی کر رہی ہے۔ یہ کہ تمام مخلوق ایک جیسی ہے۔ اللہ کی تخلیق کا ایک اصول ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے تمام مخلوقات کو جوڑے جوڑے پیدا کیا ہے۔ نباتات بھی انسانوں کی طرح جوڑے ہیں۔ اور انسانوں اور نباتات کے علاوہ دوسری مخلوق بھی جوڑے ہیں۔

ومما لا یعلمون (36: 36) ” اور ان اشیاء میں بھی جوڑے ہیں جنہیں یہ جانتے تک نہیں “۔ اصول تخلیق اور تکوین کی یہ یگانگت بتلاتی ہے کہ اس کائنات کا خالق بھی ایک ہے۔ تمام شکلوں ، تمام مجموعوں ، تمام انواع ، تمام اجناس ، تمام خصائص اور تمام علامات کے اندر یہ قاعدہ پوری طرح کارفرما ہے۔ یہ بات معلوم ہوگئی ہے کہ ایٹم اس کائنات کا وہ چھوٹا سا حصہ ہے جو آج معلوم ہوچکا ہے اور یہ ایٹم بھی دو جوڑوں سے مرکب ہے۔ یعنی مثبت اور منفی الیکڑانک شعاعیں۔ یہ باہم جدا بھی ہوتی ہیں اور متحد بھی۔ اسی طرح ہزاروں ستارے ایسے معلوم ہوچکے ہیں جو مزدوج تخلیق کے مالک ہیں۔ جو دو ستاروں سے بنے ہوئے ہیں اور باہم مرتب وہم آہنگ ہیں اور ایک ہی مدار میں پھرتے ہیں۔ گویا وہ ایک مرتب نغمہ کی شکل میں ہیں۔