Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Ya-Sin 36:83

36:83
فسبحان الذي بيده ملكوت كل شيء واليه ترجعون ٨٣
فَسُبْحَـٰنَ ٱلَّذِى بِيَدِهِۦ مَلَكُوتُ كُلِّ شَىْءٍۢ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ٨٣
فَسُبۡحَٰنَ
ٱلَّذِي
بِيَدِهِۦ
مَلَكُوتُ
كُلِّ
شَيۡءٖ
وَإِلَيۡهِ
تُرۡجَعُونَ
٨٣
So glory be to the One in Whose Hands is the authority over all things, and to Whom ˹alone˺ you will ˹all˺ be returned.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

فسبحن الذی۔۔۔۔ ترجعون (83) ” “۔ لفظ ملکوت سے خالق و مخلوق کے تعلق کی اہمیت اور عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہ اس کائنات کی ہر چیز مطلقا اللہ کی ملکیت ہے اور اس کائنات کی تمام مملوکات پر اللہ کا مکمل قبضہ اور کنٹرول ہے۔ دوسری بات یہ کہ تمام چیزوں کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ آخری ضرب ہے اور اس سورت کی نہایت عظیم اور ہولناک فضا کے لیے یہ نہایت ہی مناسب تنبیہہ ہے۔ اس سورت کا موضوع بھی نہایت ہی عظیم اور اہم ہے۔ اور اس کے اندر جو حقائق اور دلائل بھی لائے گئے ہیں وہ بھی بہت ہی عظیم اور ہولناک ہیں اور اس عظیم حقیقت سے مربوط و متعلق ہیں جن کی تفصیلات اور موضوع اس سورت میں دی گئی ہیں۔