Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Az-Zumar 39:51

39:51
فاصابهم سييات ما كسبوا والذين ظلموا من هاولاء سيصيبهم سييات ما كسبوا وما هم بمعجزين ٥١
فَأَصَابَهُمْ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُوا۟ ۚ وَٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْ هَـٰٓؤُلَآءِ سَيُصِيبُهُمْ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُوا۟ وَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ ٥١
فَأَصَابَهُمۡ
سَيِّـَٔاتُ
مَا
كَسَبُواْۚ
وَٱلَّذِينَ
ظَلَمُواْ
مِنۡ
هَٰٓؤُلَآءِ
سَيُصِيبُهُمۡ
سَيِّـَٔاتُ
مَا
كَسَبُواْ
وَمَا
هُم
بِمُعۡجِزِينَ
٥١
So the evil ˹consequences˺ of their deeds overtook them. And the wrongdoers among these ˹pagans˺ will be overtaken by the evil ˹consequences˺ of their deeds. And they will have no escape.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 39:50 to 39:51

آیت نمبر 50 تا 51

یہ وہی الفاظ ہیں جو اس سے قبل کے بدفطرت لوگوں نے کہے تھے۔ نہ ان کا علم ان کے کام آیا ، نہ ان کا اقتدار انہیں بچا سکا ۔ اور نہ ان کی ٹیکنالوجی اور اللہ کے عذاب نے انہیں آلیا۔ یہ ان کی آزمائش تھی اس میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ اور اللہ کو عاجز کرنے والا کوئی نہیں۔ انسان جیسی ضعیف مخلوق اللہ کو کیسے عاجز کرسکتی ہے۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے ان کو مال واقتدار دیا تو یہ اللہ کی حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔ اور یہ حکمت اللہ خود ہی جانتا ہے کہ وہ کسی کو مال واقتدار کی فراوانی کیوں دیتا ہے۔ اصل بات ہوتی ہے اس کی

مشیت اور اس کی آزمائش۔