Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Az-Zumar 39:67

39:67
وما قدروا الله حق قدره والارض جميعا قبضته يوم القيامة والسماوات مطويات بيمينه سبحانه وتعالى عما يشركون ٦٧
وَمَا قَدَرُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِۦ وَٱلْأَرْضُ جَمِيعًۭا قَبْضَتُهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ وَٱلسَّمَـٰوَٰتُ مَطْوِيَّـٰتٌۢ بِيَمِينِهِۦ ۚ سُبْحَـٰنَهُۥ وَتَعَـٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ٦٧
وَمَا
قَدَرُواْ
ٱللَّهَ
حَقَّ
قَدۡرِهِۦ
وَٱلۡأَرۡضُ
جَمِيعٗا
قَبۡضَتُهُۥ
يَوۡمَ
ٱلۡقِيَٰمَةِ
وَٱلسَّمَٰوَٰتُ
مَطۡوِيَّٰتُۢ
بِيَمِينِهِۦۚ
سُبۡحَٰنَهُۥ
وَتَعَٰلَىٰ
عَمَّا
يُشۡرِكُونَ
٦٧
They have not shown Allah His proper reverence—when on the Day of Judgment the ˹whole˺ earth will be in His Grip, and the heavens will be rolled up in His Right Hand. Glorified and Exalted is He above what they associate ˹with Him˺!
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

آیت نمبر 67

حقیقت یہ کہ انہوں نے اللہ کی ذات کی قدر نہیں کی ۔ ورنہ وہ اللہ کے ساتھ اس کی مخلوقات کو شریک نہ کرتے ۔ نہ انہوں نے اللہ کی بندگی کا حق ادا کیا ہے ، کیونکہ وہ عقیدۂ توحید اور اللہ کی عظمت کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ ان کو اللہ کی جلالت قدر کا شعور ہی نہیں ہے۔ اللہ کی جلالت قدر اور عظمت کا شعور ان کو یوں دیا جاتا ہے ، قرآن کے مخصوص انداز بیان کے مطابق کہ قرآن اعلیٰ عقلی افکار کو بھی نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ کلی اور عقلی مفاہیم محدود انسانی ادراک کے قریب آجائیں۔

قرآن وسنت میں جہاں جہاں اس قسم کی تصاویر اور مناظر آتے ہیں وہ دراصل تمثیلات ہیں اور حقائق کو انسانی ادراک کے

قریب تر کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ معانی کو ایسے الفاظ میں بیان کیا جائے جن کا تصور ان کے لیے ممکن ہو ، یہاں بھی اللہ کی قدرت مطلقہ کو مٹھی کی شکل میں لایا گیا ہے ، ورنہ نہ کسی شکل ، نہ کسی جگہ اور نہ کسی حد کا پابند ہے۔ یہاں عقلی حقائق کو حسی انداز دیا گیا ہے۔ اس کے بعد قیامت کا ایک طویل منظر آتا ہے۔ اس کا آغاز نفخہ اولی سے ذوتا ہے اور خاتمہ اس وقت ہوتا ہے جب قیامت کے تمام معاملات چکا دیئے جاچکے ہیں۔ اور اہل جہنم کو جہنم کی طرف چلا دیا جاتا ہے۔ اور اہل جنت کو جنت کی طرف رخصت کردیا جاتا ہے۔ اور صرف ذات باری رہ جاتی ہے اور تمام کائنات ذات باری کی حمد وثنا میں رطب کی طرف رخصت کردیا جاتا ہے۔ اور صرف ذات باری رہ جاتی ہے اور تمام کائنات ذات بارہ کی حمد وثنا میں رطب اللسان ہوتی ہے۔

یہ ایک زبردست منظر ہے۔ جوش و خروش اور حرکت سے پر ہے اور اس کی حرکات نہایت ترتیب سے آہستگی کے ساتھ شروع ہوتی ہیں اور آگے بڑھتی ہیں۔ یہاں تک کہ تمام حرکات ختم ہوجاتی ہیں ، تمام آوازیں بیٹھ جاتی ہیں اور منظر پر ایک خوفناک خاموشی چھا جاتی ہے۔ تمام مخلوقات اللہ واحد اور قہار کے سامنے سہم جاتی ہیں۔

دیکھئے ! ایک سخت آوازبلند ہوجاتی ہے اور سب لوگ مرکر گر جاتے ہیں۔ اس وقت زمین میں موجود پوری آبادی چشم زدن میں بےجان ہوجاتی ہے۔ آسمانوں کی پوری مخلوق بھی ختم ہوجاتی ہے۔ الاماشاء اللہ ۔ اب ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ کتنے وقفے کے بعد دوسری چیخ بلند ہوتی ہے۔ لیکن دوسری چیخ بلند ہوجاتی ہے۔