Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Az-Zumar 39:7

39:7
ان تكفروا فان الله غني عنكم ولا يرضى لعباده الكفر وان تشكروا يرضه لكم ولا تزر وازرة وزر اخرى ثم الى ربكم مرجعكم فينبيكم بما كنتم تعملون انه عليم بذات الصدور ٧
إِن تَكْفُرُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَنِىٌّ عَنكُمْ ۖ وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ ٱلْكُفْرَ ۖ وَإِن تَشْكُرُوا۟ يَرْضَهُ لَكُمْ ۗ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌۭ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٧
إِن
تَكۡفُرُواْ
فَإِنَّ
ٱللَّهَ
غَنِيٌّ
عَنكُمۡۖ
وَلَا
يَرۡضَىٰ
لِعِبَادِهِ
ٱلۡكُفۡرَۖ
وَإِن
تَشۡكُرُواْ
يَرۡضَهُ
لَكُمۡۗ
وَلَا
تَزِرُ
وَازِرَةٞ
وِزۡرَ
أُخۡرَىٰۚ
ثُمَّ
إِلَىٰ
رَبِّكُم
مَّرۡجِعُكُمۡ
فَيُنَبِّئُكُم
بِمَا
كُنتُمۡ
تَعۡمَلُونَۚ
إِنَّهُۥ
عَلِيمُۢ
بِذَاتِ
ٱلصُّدُورِ
٧
If you disbelieve, then ˹know that˺ Allah is truly not in need of you, nor does He approve of disbelief from His servants. But if you become grateful ˹through faith˺, He will appreciate that from you. No soul burdened with sin will bear the burden of another. Then to your Lord is your return, and He will inform you of what you used to do. He certainly knows best what is ˹hidden˺ in the heart.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

آیت نمبر 7

تمہاری ماؤں کے پیٹ کا عرصہ تو تمہارے طویل سفر زندگی کا ایک مختصر حصہ ہے۔ ابتدائی مرحلہ ہے۔ پھر پیٹ سے باہر آکر تم قدرے طویل مرحلے میں داخل ہوگے۔ اس کے بعد تیسرا طویل اور ابدی مرحلہ ہوگا۔ حساب و کتاب ہوگا اور یہ مرحلہ اللہ علیم وخبیر کی تدبیر سے طے ہوگا۔

جہاں تک اللہ کی ذات کا تعلق ہے وہ انسان جیسی کمزور مخلوق کا محتاج نہیں ہے۔ انسان بہت ہی ضعیف مخلوق ہے۔ یہ اللہ کا فضل وکرم ہے کہ وہ انسانوں کیطرف متوجہ ہے اور انکی نگرانی اور ان پر مہربانی کرتا ہے اور وہ کس قدر ضعیف اور کس قدر کمزور ہیں

ان تکفروافان اللہ غنی عنکم (39: 7) ” اگر تم کفر کرو تو اللہ بےنیاز ہے “۔ کیونکہ تمہارا ایمان اللہ کی مملکت میں کسی چیز کا

اضافہ نہیں کرسکتا ۔ اور تمہارا کفر اس میں کسی چیز کی کمی نہیں کرسکتا۔ لیکن اللہ اپنے بندوں کی جانب سے کفر کو پسند نہیں کرتا اور کفر کو محبوب نہیں رکھتا۔

ولایرضٰی لعبادہ الکفر (39: 7) ” لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا “۔ اور اگر تم شکر کرو۔

وان تشکرواترضه لکم (39: 7) ” اگر تم شکر کرو تو اسے وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے “۔ وہ شکر کو محبوب رکھتا ہے ، اور اس پر جزائے خیر دیتا ہے۔

ولا تزروازرۃ وزراخرٰی (39: 7) ” کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا “۔ آخر کار ہم نے اللہ کے ہاں لوٹنا ہے۔ صرف اس کے آگے پیش ہونا ہے اور اس کے سوا کوئی پناہ نہیں ہے۔

ثم الیٰ ۔۔۔۔ تعملون (39: 7) ” آخر کار تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے۔ پھر تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو “۔

اس پر کوئی امر مخفی نہیں ہے۔

انه علیم بذات الصدور (39: 7) ” وہ دلوں کا حال جانتا ہے “۔ یہ ہے انجام حیات ۔ یہ ہیں دلائل ہدایت اور یہ ہے دو راہہ جس سے دونوں راستے الگ ہوتے ہیں۔ ایک ہدایت کا راستہ اور ایک ضلالت کا راستہ۔ اب ہر شخص کو اختیار ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرتا ہے جو شخص جس راستے کا اختیار کرے خوب سمجھ کر اختیار کرے غور و تدبر کے بعد کرے۔ علم اور فکر کے ساتھ کرے