Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Az-Zumar 39:74

39:74
وقالوا الحمد لله الذي صدقنا وعده واورثنا الارض نتبوا من الجنة حيث نشاء فنعم اجر العاملين ٧٤
وَقَالُوا۟ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى صَدَقَنَا وَعْدَهُۥ وَأَوْرَثَنَا ٱلْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ ٱلْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَآءُ ۖ فَنِعْمَ أَجْرُ ٱلْعَـٰمِلِينَ ٧٤
وَقَالُواْ
ٱلۡحَمۡدُ
لِلَّهِ
ٱلَّذِي
صَدَقَنَا
وَعۡدَهُۥ
وَأَوۡرَثَنَا
ٱلۡأَرۡضَ
نَتَبَوَّأُ
مِنَ
ٱلۡجَنَّةِ
حَيۡثُ
نَشَآءُۖ
فَنِعۡمَ
أَجۡرُ
ٱلۡعَٰمِلِينَ
٧٤
The righteous will say, “Praise be to Allah Who has fulfilled His promise to us, and made us inherit the ˹everlasting˺ land1 to settle in Paradise wherever we please.” How excellent is the reward of those who work ˹righteousness˺!
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 39:74 to 39:75

آیت نمبر 74

یہ جنت کی سر زمین کے وارث ہوگئے۔ جہاں چاہتے ہیں اس کے اندر جارہے ہیں اور بس رہے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کھا رہے ہیں ، سب کچھ موجود ہے۔ ۔ اب اس منظر کا خاتمہ نہایت ہی خوفناک انداز میں ہوتا ہے ، لیکن یہ جلال بھی نہایت دھیمی انداز کا ہے۔ اس منظر کی فضا سے ہم رنگ ۔ پوری کائنات رب کی ثنا میں رطب اللسان ہے۔ نہایت ہی دھیمے انداز میں ، خشوع اور سرافگندگی کے ساتھ اور ہر زندہ مخلوق جس کلمے کو دہراتی وہ نہایت عجز کے ساتھ دہراتی ہے۔