Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Ali 'Imran 3:114

3:114
يومنون بالله واليوم الاخر ويامرون بالمعروف وينهون عن المنكر ويسارعون في الخيرات واولايك من الصالحين ١١٤
يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُسَـٰرِعُونَ فِى ٱلْخَيْرَٰتِ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ ١١٤
يُؤۡمِنُونَ
بِٱللَّهِ
وَٱلۡيَوۡمِ
ٱلۡأٓخِرِ
وَيَأۡمُرُونَ
بِٱلۡمَعۡرُوفِ
وَيَنۡهَوۡنَ
عَنِ
ٱلۡمُنكَرِ
وَيُسَٰرِعُونَ
فِي
ٱلۡخَيۡرَٰتِۖ
وَأُوْلَٰٓئِكَ
مِنَ
ٱلصَّٰلِحِينَ
١١٤
They believe in Allah and the Last Day, encourage good and forbid evil, and race with one another in doing good. They are ˹truly˺ among the righteous.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 3:113 to 3:115

یہ اہل کتاب مومنین کی ایک روشن تصویر ہے ۔ ان میں سے بعض لوگوں نے سچائی کے ساتھ ایمان قبول کیا اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گہرائی تک اتر گیا ۔ پھر یہ ایمان پوری طرح کامل اور شامل تھا ۔ یہ لوگ اسلامی صفوں میں شامل ہوگئے اور دین اسلام کے محافظ بن گئے ۔ اللہ اور روز قیامت پر ایمان لے آئے ۔ انہوں نے ایمان کے تقاضے پورے کئے ‘ اور جس امت کا وہ جزء بن گئے تھے ‘ اس کی اساسی خصوصیت کے مطابق کام شروع کردیا ‘ یعنی یہ خصوصیت کہ وہ خیر امت ہے ۔ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے پر کاربند ہوگئے ‘ اس سے پہلے بھھی ان کے نفوس خیر طلب تھے ‘ انہوں نے بھلائی کے میدان میں ایک دوسرے کی مسابقت کی ۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھے ۔ اس لئے عالم بالا سے ان کے حق میں یہ شہادت نازل ہوئی کہ یہ لوگ یقیناً صالحین میں ہیں ۔ اور ان کے ساتھ یہ سچا وعدہ کیا جاتا ہے کہ ان کا کوئی حق نہ مارا جائے گا ۔ نہ ہی ان کا کوئی حق روکا جائے گا۔ اور یہ بھی کہہ دیا گیا کہ اللہ کو اچھی طرح علم ہے کہ وہ متقین میں سے ہیں ۔

یہ ایک تصویر ہے جو یہاں اس لئے دکھائی جارہی ہے کہ جن لوگوں کی یہ خواہش ہو کہ وہ اپنے حق میں یہ شہادت قلمبند کرالیں وہ اسے اس روشن افق پر دیکھیں اور اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کریں ۔

یہ تو ایک محاذ ہے ‘ دوسری جانب کافر ہیں ‘ وہ کافر جنہیں ان کی دولت کچھ فائدہ نہیں دے رہی ہے ۔ جن کے لئے ان کی اولاد بھی مفید نہیں ہے ۔ پھر دنیا میں انہوں نے جو کچھ بھی خرچ کیا وہ ان کے لئے مفید نہیں ہے ۔ قیامت کے دن اس انفاق کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ انفاق بھلائی کے اس خط مستقیم کے ساتھ جڑا ہو انہیں ہے ‘ جو اللہ نے کھینچا ہے ۔ یعنی وہ بھلائی جو ایمان اور اسلامی نظریہ حیات پر مبنی ہو ‘ جس کا تصور واضح ہو ‘ جس کا ہدف مستقل ہو اور جن کی راہ اللہ تک جاری ہو ‘ ورنہ پھر بھلائی کا ایک عارضی جذبہ کبھی کبھار پیدا ہوجائے گا مگر وہ مستقل نہ ہوگا ‘ اور وہ ایک ایسا جھکاؤ ہوگا جس کے رخ کو معمولی آندھی پھیرسکے گی ۔ وہ کسی واضح ‘ قابل فہم اور ٹھوس بنیاد پر نہ ہوگا نہ اس کا کسی مکمل اور جامع اور سیدھے نظام حیات سے ربط ہوگا۔