Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Ali 'Imran 3:66

3:66
ها انتم هاولاء حاججتم فيما لكم به علم فلم تحاجون فيما ليس لكم به علم والله يعلم وانتم لا تعلمون ٦٦
هَـٰٓأَنتُمْ هَـٰٓؤُلَآءِ حَـٰجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِۦ عِلْمٌۭ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِۦ عِلْمٌۭ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ٦٦
هَٰٓأَنتُمۡ
هَٰٓؤُلَآءِ
حَٰجَجۡتُمۡ
فِيمَا
لَكُم
بِهِۦ
عِلۡمٞ
فَلِمَ
تُحَآجُّونَ
فِيمَا
لَيۡسَ
لَكُم
بِهِۦ
عِلۡمٞۚ
وَٱللَّهُ
يَعۡلَمُ
وَأَنتُمۡ
لَا
تَعۡلَمُونَ
٦٦
Here you are! You disputed about what you have ˹little˺ knowledge of,1 but why do you now argue about what you have no knowledge of?2 Allah knows and you do not know.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مباحثہ کیا ‘ پھر انہوں نے بعض فقہی موضوعات پر بھی مجادلہ کیا ‘ اور جب انہیں دعوت دی گئی کہ آؤ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں تو انہوں نے روگردانی کی ۔ یہ دونوں موضوعات ایسے تھے ‘ جن کے بارے میں انہیں کچھ علم تھا۔ رہے وہ معاملات جو تمہارے وجود سے پہلے ہیں ‘ تمہاری کتابوں سے پہلے ہیں ۔ تمہارے اس دین سے پہلے ہیں جن پر تمہارا ایمان ہے ۔ تو اس بارے میں تمہارے پاس نہ علم ہے اور نہ سند ہے۔ اگرچہ ہماری سند ہو ‘ لہٰذا ان موضوعات پر تمہارا مباحثہ کرنا صرف بحث برائے بحث ہوگا۔ وہ محض تیر تکے چلانا ہوگا۔ کوئی بامقصد کام نہ ہوگا ۔ بلکہ محض مطلب براری اور نفس پرستی ہوگی ۔ اور جن لوگوں کا حال یہ ہو وہ ہرگز قابل اعتبار نہ ہوں گے بلکہ ایسے لوگوں سے بات نہ کرنا مناسب ہے اور نہ ان کی بات پر کان دھرنا مناسب ہے ۔