Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Az-Zukhruf 43:85

43:85
وتبارك الذي له ملك السماوات والارض وما بينهما وعنده علم الساعة واليه ترجعون ٨٥
وَتَبَارَكَ ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَعِندَهُۥ عِلْمُ ٱلسَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ٨٥
وَتَبَارَكَ
ٱلَّذِي
لَهُۥ
مُلۡكُ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
وَمَا
بَيۡنَهُمَا
وَعِندَهُۥ
عِلۡمُ
ٱلسَّاعَةِ
وَإِلَيۡهِ
تُرۡجَعُونَ
٨٥
And Blessed is the One to Whom belongs the kingdom of the heavens and the earth and everything in between! With Him ˹alone˺ is the knowledge of the Hour. And to Him you will ˹all˺ be returned.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 43:84 to 43:86

ان لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کے بعد اللہ کی تعریف اور حمد میں کچھ باتیں کی جاتی ہیں ، یہ بتانے کے لئے کہ اس عظیم کائنات کا رب ایسا ہوتا ہے۔ یہ ہیں اس کی صفات :

آیت نمبر 84 تا 86

یہ ہے زمین و آسمان میں صرف ایک ہی الوہیت کا اعلان ، جو وحدہ لا شریک ہے ، وہ جو کام بھی کرتا ہے حکمت کی بنا پر کرتا ہے اور اپنے بےقید علم کے مطابق کرتا ہے۔ پھر یہاں لفظ تبارک کا استعمال ہوا ہے یعنی برکتوں والا ہے اور اس کے بارے میں یہ لوگ جو تصورات رکھتے ہیں ، ان سے بہت بلند ہے ، وہ زمین و آسمانوں اور ان کے اندر تمام مخلوقات کا رب اور مالک ہے۔ وہی قیامت کے دن کا جاننے والا ہے اور اس کی طرف لوٹنا ہے۔ اس دن ان الہوں میں سے کوئی بھی نہ ہوگا۔ سب غائب ہوں گے جن کو یہ پکارتے ہیں ۔ کیونکہ یہ لوگ کہتے تھے ہمارے یہ رب دراصل ہمارے سفارشی ہیں اور وہاں تو سفارش اس کی چلے گی جس کو پیشگی اجازت دے دی جائے گی ، اور ظاہر ہے جن کو پیشگی اجازت ملے گی وہ معاندین حق اور دشمنان اسلام کی سفارش کرنے سے رہے۔

اب یہاں ان کے سامنے وہ بات رکھی جاتی ہے جس میں وہ نہ شک کرتے تھے اور نہ جھگڑتے تھے۔ یہ کہ اللہ ہی ہمارے خالق ہے۔ سوال یہ کیا جاتا ہے جب اللہ خالق ہے تو پھر کیوں دوسروں کو اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہو۔