Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Jathiyah 45:11

45:11
هاذا هدى والذين كفروا بايات ربهم لهم عذاب من رجز اليم ١١
هَـٰذَا هُدًۭى ۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَـٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌۭ مِّن رِّجْزٍ أَلِيمٌ ١١
هَٰذَا
هُدٗىۖ
وَٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
بِـَٔايَٰتِ
رَبِّهِمۡ
لَهُمۡ
عَذَابٞ
مِّن
رِّجۡزٍ
أَلِيمٌ
١١
This ˹Quran˺ is ˹true˺ guidance. And those who deny their Lord’s revelations will suffer the ˹worst˺ torment of agonizing pain.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

آیت نمبر 11

اس قرآن کی حقیقت بس یہ ہے کہ یہ ایک رہنمائی ہے۔ خالص ہدایت ، صاف صاف ہدایت ۔ ایسی ہدایت جس میں ضلالت کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ اس لیے اس قسم کی آیات کا جو لوگ انکار کرتے ہیں ، وہ اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ ان کو دردناک عذاب سے دوچار کردیا جائے۔ الیم کے معنی میں شدت الم اور ایذا رسانی کے معنی ظاہر ہیں۔ رجز کے معنی ہیں عذاب شدید۔ اور جس عذاب کی انہیں دھمکی دی جارہی ہے ، وہ الیم بھی ہے اور شدید بھی ۔ یعنی اس کی شدت اور اس کا الم دونوں مکررو مشدد ہیں۔ تاکید بعد تاکید ہے اور جو لوگ واضح خالص اور صریح ہدایت کا انکار کرتے ہیں ان کے لئے ایسا عذاب ہی ہونا چاہئے۔

٭٭٭٭٭

اس شدید دھمکی اور سخت ڈراوے کے بعد اب پھر ان کے دلوں کو باد نسیم کی طرح نرم بات سے راہ راست لانے کی کوشش کی جاتی ہے اور وہ انعامات دوبارہ یاد دلائے جاتے ہیں جو اس کائنات میں ان کے لئے مسخر کر دئیے گئے ہیں۔