Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Muhammad 47:37

47:37
ان يسالكموها فيحفكم تبخلوا ويخرج اضغانكم ٣٧
إِن يَسْـَٔلْكُمُوهَا فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُوا۟ وَيُخْرِجْ أَضْغَـٰنَكُمْ ٣٧
إِن
يَسۡـَٔلۡكُمُوهَا
فَيُحۡفِكُمۡ
تَبۡخَلُواْ
وَيُخۡرِجۡ
أَضۡغَٰنَكُمۡ
٣٧
If He were to do so and pressure you, you would withhold and He would bring out your resentment.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

ان یسئلکموھا فیحفکم تبخلوا ویخرج اصغانکم (47 : 37) ” اگر کہیں وہ تمہارے مال تم سے مانگ لے اور سب کے سب تم سے طلب کرلے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے کھوٹ ابھار لائے گا “۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ کے احکام کس قدر حکیمانہ ہیں ، جس طرح اس سے اللہ کی رحمت اور مہربانیوں کا اظہار ہوتا ہے کہ دین اسلام میں جو فرائض و واجبات مقرر کئے گئے ہیں وہ فطرت کے عین مطابق ہیں اور اس میں انسانوں کی بشری کمزوریوں اور انسانی استعداد کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس لیے کہ اسلام ایک ربانی نظام زندگی ہے۔ اور یہ انسانوں کے لئے ایک ربانی نظام تجویز کرتا ہے۔ یہ نظام ایک ربانی نظام اس زاویہ سے ہے کہ اس کے قواعد اللہ نے بنائے ہیں اور یہ انسانی اس لحاظ سے ہے۔ کہ اس میں انسان کی استعداد ، قوت اور ماحول کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اللہ ہی ہے جس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور اللہ ہی ہے جو ان کے لئے نظام تجویز کرتا ہے کیونکہ وہ اپنی مخلوق سے اچھی طرح واقف ہے اور وہ لطیف وخبیر ہے۔