Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Fath 48:16

48:16
قل للمخلفين من الاعراب ستدعون الى قوم اولي باس شديد تقاتلونهم او يسلمون فان تطيعوا يوتكم الله اجرا حسنا وان تتولوا كما توليتم من قبل يعذبكم عذابا اليما ١٦
قُل لِّلْمُخَلَّفِينَ مِنَ ٱلْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَىٰ قَوْمٍ أُو۟لِى بَأْسٍۢ شَدِيدٍۢ تُقَـٰتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ ۖ فَإِن تُطِيعُوا۟ يُؤْتِكُمُ ٱللَّهُ أَجْرًا حَسَنًۭا ۖ وَإِن تَتَوَلَّوْا۟ كَمَا تَوَلَّيْتُم مِّن قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا ١٦
قُل
لِّلۡمُخَلَّفِينَ
مِنَ
ٱلۡأَعۡرَابِ
سَتُدۡعَوۡنَ
إِلَىٰ
قَوۡمٍ
أُوْلِي
بَأۡسٖ
شَدِيدٖ
تُقَٰتِلُونَهُمۡ
أَوۡ
يُسۡلِمُونَۖ
فَإِن
تُطِيعُواْ
يُؤۡتِكُمُ
ٱللَّهُ
أَجۡرًا
حَسَنٗاۖ
وَإِن
تَتَوَلَّوۡاْ
كَمَا
تَوَلَّيۡتُم
مِّن
قَبۡلُ
يُعَذِّبۡكُمۡ
عَذَابًا
أَلِيمٗا
١٦
Say to nomadic Arabs, who stayed behind, “You will be called ˹to fight˺ against a people of great might,1 who you will fight unless they submit. If you then obey, Allah will grant you a fine reward. But if you turn away as you did before, He will inflict upon you a painful punishment.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

قل للمخلفین من الاعراب ۔۔۔۔۔۔ یعذبکم عذابا الیما (48 : 16) “ ان پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ “ عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لئے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں۔ تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مطیع ہوجائیں گے ۔ اس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا ، اور اگر تم پھر اسی طرح نہ موڑ گئے جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ تم کو دردناک سزا دے گا ”۔

اس کی تفسیر میں بھی اختلاف ہے کہ یہ لوگ کون ہیں جن کو اولی باس شدید “ بڑے زور آور ہیں ” کہا گیا ہے کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تھے یا خلفاء راشدین کے زمانے میں تھے۔ قریب بات یہ ہے کہ یہ رسول اللہ ہی کے دور میں تھے اور مقصد یہ تھا کہ مدینہ کے ماحول میں جو بدوی عرب تھے ، ان کے ایمان کو آزمایا جائے۔

اہم بات یہ نہیں ہے کہ یہ کون تھے اہم یہ ہے کہ قرآن کا انداز تربیت کیا ہے ؟ قرآن بیمار دلوں کا علاج کس طرح کرتا ہے۔ کس طرح قرآن ہدایات دیتا ہے ، کس طرح عملاً آزماتا ہے۔ یہ بات اس سے معلوم ہوتی ہے کہ پکے مسلمانوں کے سامنے ان بدوی لوگوں کی فکری حالت کو ظاہر کیا جاتا ہے کہ خود ان پر بھی اور مسلمانوں پر ان کی حالت کھل جائے۔ اور پھر ان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ایمان اور عمل میں ٹھوس رویہ اختیار کرو ، اور اعلیٰ قدروں کو اپناؤ۔

چونکہ معاملہ آزمائش کا تھا اس لیے اللہ نے تمام مسلمانوں کے لئے خروج لازمی کردیا۔ اور ان لوگوں کو متعین کر کے بتا دیا کہ حقیقی عذر کیا ہے۔ اگر اس کے مطابق کوئی جہاد سے رہ گیا تو اسے کوئی سزا نہ ہوگی نہ گناہ ہوگا۔