Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Ar-Rahman 55:29

55:29
يساله من في السماوات والارض كل يوم هو في شان ٢٩
يَسْـَٔلُهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِى شَأْنٍۢ ٢٩
يَسۡـَٔلُهُۥ
مَن
فِي
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِۚ
كُلَّ
يَوۡمٍ
هُوَ
فِي
شَأۡنٖ
٢٩
All those in the heavens and the earth are dependent on Him. Day in and day out He has something to bring about.1
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

زمین اور آسمانوں میں جو مخلوقات ہیں وہ اس بقائے دوام کے سوالی ہیں کیونکہ سوال کی جگہ ہی وہ ہے۔ اس کے سوا دوسری کوئی درگاہ نہیں ہے اور اس کے سوا کسی سے کوئی سوال اس لئے عبث ہے کہ غیر خود محتاج ہے محتاج محتاج کی کیا مدد کرسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی ہر آن کئی شان ہے۔ یہ وجود جو لاحدود ہے۔ سب کا سب اس کی مشیت ، اس کی تصویر اور اس کی تدبیر سے چل رہا ہے۔ یہ تدبیر پوری کائنات میں رواں دواں ہے اور ہر فرد علیحدہ علیحدہ بھی اس تقدیر اور مشیت میں پرویا ہوا ہے۔ پھر انسانی فرد کے اندر اس کا ایک ایک رواں بھی اس تقدیر کے دائرہ میں مقدر ہے۔ ہر چیز کو اللہ تخلیق عطا کرتا ہے۔ اسے اس کا مقصد تخلیق دیتا ہے اور پھر وہ دیکھتا ہے کہ وہ اپنا فریضہ ادا کررہی ہے یا نہیں۔

یہ تقدیر ہر آنے والے پودے اور گرنے والے پتے کا پیچھا کرتی ہے۔ زمین کی تاریکیوں میں دور کہیں کوئی دانہ پڑا ہے تو وہ بھی مقدر ہے۔ خشک ویا بس ، سمندر اور ان کی مچھلیاں ، کیڑے اور ان کے سوراخ ، حشرات اور ان کے ٹھکانے یہ تمام جانور ان کے مقامات رہائش غاروں میں ، گھونسلوں میں ، ہر انڈا اور ہر بچہ اور ہر پر اور ہر پر کا ایک ایک ریشہ اور ہر جسم کا ہر خلیہ مقدر ہے۔

اور صاحب تدبیر کسی ایک ہی کے اندر مصروف نہیں ہوتا اور نہ ایک کی تدبیر دوسرے سے غافل کرلیتی ہے۔ وہ بیک وقت سب کا مدبر ہے اور ان ہی حالات میں زمین کے معاملات جس میں جن وانس بھی ہیں کہ ہر وقت اس کی تم پر نظر ہے اور یہ بھی بڑی نعمت ہے۔ تقدیر بھی ایک نعمت ہے۔