Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Jumu'ah 62:8

62:8
قل ان الموت الذي تفرون منه فانه ملاقيكم ثم تردون الى عالم الغيب والشهادة فينبيكم بما كنتم تعملون ٨
قُلْ إِنَّ ٱلْمَوْتَ ٱلَّذِى تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُۥ مُلَـٰقِيكُمْ ۖ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَـٰلِمِ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَـٰدَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٨
قُلۡ
إِنَّ
ٱلۡمَوۡتَ
ٱلَّذِي
تَفِرُّونَ
مِنۡهُ
فَإِنَّهُۥ
مُلَٰقِيكُمۡۖ
ثُمَّ
تُرَدُّونَ
إِلَىٰ
عَٰلِمِ
ٱلۡغَيۡبِ
وَٱلشَّهَٰدَةِ
فَيُنَبِّئُكُم
بِمَا
كُنتُمۡ
تَعۡمَلُونَ
٨
Say, “The death you are running away from will inevitably come to you. Then you will be returned to the Knower of the seen and unseen, and He will inform you of what you used to do.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

قل ان .................... تعملون (26 : 8) ” ان سے کہو ، ” جس موت سے تم بھاگتے ہو ، وہ تو تمہیں آکر رہے گی۔ پھر تم اس کے سامنے پیش کیے جاﺅ گے جو پوشیدہ وظاہر کا جاننے والا ہے ، اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو “۔

یہ ایک توجہ دلاﺅ نوٹس ہے ، مسلمانوں کو ، اور غیر مسلموں سب کو کہ ایک حقیقت کو اپنے دل و دماغ میں تازہ کرلو۔ اور لوگ اس اٹل حقیقت کو بھول جاتے ہیں ، یا بھلانے کی کوشش کرتے ہیں ، موت تو آنے والی ہے۔ یہ زندگی ختم ہونے والی ہے۔ اس دنیا میں تم جس قدر اس سے بھاگو ، تم موت کے منہ میں پہنچ جاﺅ گے۔ لہٰذا کوئی جائے پناہ اللہ کے سوا نہیں ہے ، وہاں حساب و کتاب دینے سے کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں ہے۔ لہٰذا اس سے بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

طبری نے اپنے معجم میں معاذ ابن محمد ھذلی کی حدیث روایت کی ہے۔ یونس سے ، انہوں نے حسن سے ، انہوں نے حضرت سمرة سے ، مرفوع صورت میں کہ ” جو شخص موت سے بھاگتا ہے ، اس کی مثال لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ مانگ رہی تھی ، تو وہ بھاگنے لگی یہاں تک کہ بھاگتے بھاگتے تھک گئی اور اس کے لئے بھاگنا ممکن نہ رہا تو وہ اپنے سوراخ میں جا گھسی تو وہاں زمین نے اس سے کہا : ” اے لومڑی میرا قرضہ ؟ “

اب اس سورت کا آخری مقطع آتا ہے او یہ جمعہ کی نماز کے بارے میں ہے ، یہ اس موقعہ کی نسبت سے جو واقعہ ہوا شاید ایسا واقعہ ایک سے زائد مرتہ ہوتا ہوگا کیونکہ الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہوتا رہتا تھا۔