Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Munafiqun 63:1

63:1
اذا جاءك المنافقون قالوا نشهد انك لرسول الله والله يعلم انك لرسوله والله يشهد ان المنافقين لكاذبون ١
إِذَا جَآءَكَ ٱلْمُنَـٰفِقُونَ قَالُوا۟ نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُۥ وَٱللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ ٱلْمُنَـٰفِقِينَ لَكَـٰذِبُونَ ١
إِذَا
جَآءَكَ
ٱلۡمُنَٰفِقُونَ
قَالُواْ
نَشۡهَدُ
إِنَّكَ
لَرَسُولُ
ٱللَّهِۗ
وَٱللَّهُ
يَعۡلَمُ
إِنَّكَ
لَرَسُولُهُۥ
وَٱللَّهُ
يَشۡهَدُ
إِنَّ
ٱلۡمُنَٰفِقِينَ
لَكَٰذِبُونَ
١
When the hypocrites come to you ˹O Prophet˺, they say, “We bear witness that you are certainly the Messenger of Allah”—and surely Allah knows that you are His Messenger—but Allah bears witness that the hypocrites are truly liars.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

یہ رسول اللہ کے پاس آتے تھے۔ آپ کے سامنے یہ لوگ آپ کی رسالت پر ایمان کی شہادت دیتے تھے ، لیکن دل سے یہ شہادت نہ ہوتی۔ بطور تقیہ یہ شہادت دیتے ، تاکہ ان کی حقیقت مسلمانوں سے چھپ جائے ، لیکن درحقیقت یہ جھوٹی شہادت دے رہے تھے۔ محض دھوکے کے لئے آتے۔ یہ اس کے ذریعہ اپنے آپ کو چھپاتے۔ چناچہ اللہ فرماتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ لیکن اس موقعہ پر اللہ حضور کی رسالت کی تصدیق خود فرماتا ہے اور منافقین کی جھوٹ کی شہادت دیتا ہے۔

واللہ ................ لرسولہ (36 : 1) ” اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور اس کے رسول ہو “۔ اور واللہ .................... لکذبون (36 : 1) ” اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جھوٹے ہیں “۔

یہاں انداز تعبیر میں نہایت احتیاط ملحوظ رکھی گئی ہے۔ منافقین کے قول کی تکذیب سے پہلے رسالت محمدی کی تصدیق فرماتا ہے۔ اگر یوں نہ ہوتا تو صرف یہ بات آتی کہ منافقین کی شہادت جھوٹی ہے۔ اور شہادت تو رسالت سے متعلق فرماتا ہے۔ اور قرآن کا مقصد یہ نہ تھا۔” ان کی شہادت سچی ہے لیکن وہ اپنی شہادت میں جھوٹے ہیں “۔ مطلب یہ ہے کہ شہادت سچی ہے لیکن وہ اقرار رسالت میں جھوٹے ہیں۔ ضمیر کے مطابق شہادت نہیں دے رہے۔