Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Mulk 67:25

67:25
ويقولون متى هاذا الوعد ان كنتم صادقين ٢٥
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ٢٥
وَيَقُولُونَ
مَتَىٰ
هَٰذَا
ٱلۡوَعۡدُ
إِن
كُنتُمۡ
صَٰدِقِينَ
٢٥
˹Still˺ they ask ˹the believers˺, “When will this threat come to pass, if what you say is true?”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اس بڑے معاملے میں تم شک میں پڑے ہو ؟ اور سوالات کرتے ہو ؟

ویقولون .................... صدقین

” یہ ایک خلجان آلود سوال ہے اور اس کے اندر ہٹ دھرمی اور تکبر کی بو بھی۔

اس وعدے اور قیام قیامت کے وقت کا علم ہمیں اس قدر ہے کہ وہ اپنے وقت سے مقدم وموخر نہیں ہوسکتا۔ اس کا وقت ہمیں معلوم ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ یہ یوم الجزاء ہے۔ ہمارے لئے اس میں کیا فرق ہے کہ وہ کل آجائے یا کئی ملین سال بعد آجائے ، ہماری زندگی تو مختصر زندگی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ آنے والی ہے اور اس کے لئے تیاری کرنا ضروری ہے۔ تمہیں اس میں بہرحال اٹھایا جائے گا اور جزاء وسزا ہوگی۔

اس لئے اللہ نے اس کے وقت کی اطلاع کسی کو نہیں دی ۔ کیونکہ قیامت کا وقت کسی کو معلوم ہوجانے میں کوئی فائدہ ہی کیا ہے۔ انسان کی عملی زندگی کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ان احکامات کے ساتھ اس کا تعلق ہے ، جو انسان کو دیئے گئے ہیں۔ بلکہ مصلحت تو اس میں ہے کہ عام لوگوں کو اس کے وقوع کے وقت کا پتہ نہ ہو ، صرف اللہ کو پتہ ہو۔