Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Mulk 67:27

67:27
فلما راوه زلفة سييت وجوه الذين كفروا وقيل هاذا الذي كنتم به تدعون ٢٧
فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةًۭ سِيٓـَٔتْ وُجُوهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَقِيلَ هَـٰذَا ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تَدَّعُونَ ٢٧
فَلَمَّا
رَأَوۡهُ
زُلۡفَةٗ
سِيٓـَٔتۡ
وُجُوهُ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
وَقِيلَ
هَٰذَا
ٱلَّذِي
كُنتُم
بِهِۦ
تَدَّعُونَ
٢٧
Then when they see the torment drawing near, the faces of the disbelievers will become gloomy, and it will be said ˹to them˺, “This is what you claimed would never come.”1 
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

فلما راوہ .................... تدعون

” جب انہوں نے اسے دیکھ لیا اور وہ ان کے سامنے ہے۔ ان کو توقع ہی نہ تھی کہ ان کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اب تو ان کے چہروں کی شکل بگڑ رہی ہے۔ غم کے بادل ہیں ان چہروں پر۔ اب ان کو یوں سرزنش کی جاتی ہے۔

ھذا الذی ................ تدعون (76 : 72) ” یہی ہے وہ چیز جس کے لئے تم تقاضے کرتے تھے “۔ یہ ہے حاضر اور قریب۔ اور دعویٰ تمہارا یہ تھا کہ قیامت کہاں ہے ؟

یہ انداز کہ ہونے والے واقعات کو قرآن اس طرح پیش کرتا ہے کہ گویا ہوگئے ، یہ ان کے شکوک و شبہات کے جواب میں کیا ہی خوب انداز ہے۔ ان کو ایک شعوری جھٹکا دیا جاتا ہے کہ وہ دیکھو قیامت تو برپا ہے۔ اور تکذیب کرنے والا اور شک کرنے والا کلام ربانی کے سامنے مبہوت رہ جاتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ وہ منکر ہے بلکہ منظر کے سامنے کھڑا رہتا ہے۔

اور یہ تصویر کشی اثر انداز اس لئے ہوئی ہے کہ اللہ کے علم میں ہیں وہ ہونے والے مناظر ، گویا فی الواقعہ وہ مناظر قائم ہیں ، کیونکہ اللہ کا علم زمان ومکان کے قید کے اندر محدود نہیں۔ یہ ماضی ، حال اور مستقبل تو انسان کے لئے ہیں۔ آج اگر اللہ حکم دے تو یہ شاید ہم اسی طرح دیکھ سکتے ہیں۔ اس طرح اچانک منکرین مخاطبین کو دنیا سے آخرت میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ اور شک وشبہ کی بجائے ان کا سامانا کرادیا جاتا ہے۔ اس حقیقت کے سامنے ان کو لایا جاتا ہے جو اللہ کے علم میں قائم ہے ، اگر پردہ اٹھادے تو ہم بھی دیکھ لیں ، لیکن اللہ یہاں صرف اس کی تصویر دکھاتا ہے۔

مشرکین مکہ اس قدر احمق ، خوش فہم اور معاند تھے کہ وہ رسول اکرم ﷺ اور مٹھی بھر مومنین کے بارے میں یہ تمنائیں کرتے تھے کہ وہ ہلاک ہوجائیں اور یہ مومنین سے بےغم ہوجائیں۔ اور وہ ایک دوسرے کو بھی نصیحت کیا کرتے تھے کہ بھائی صبر کرو ، چند لوگ ہیں مرکھپ جائیں گے۔ اس لئے یہ انتشار خود بخود ختم ہوجائے گا جو قریش کی صفوں میں انہوں نے برپا کردیا اور بعض اوقات تو وہ اس زعم میں مبتلا ہوجاتے تھے کہ اللہ عنقریب محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں کو ہلاک کردے گا۔ اس لئے کہ وہ صابی اور گمراہ ہیں کیونکہ یہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ اب حشرونشر کے اس میدان کے بعد ان کو کہا جاتا ہے تمہاری یہ تمنائیں تو اپنی جگہ ، لیکن اگر محمد ﷺ اور ان کے ساتھی ہلاک کردیئے گئے تو تم عذاب الیم سے کس طرح بچ جاﺅ گے۔ تم اپنے رویہ اور اپنے عقائد اور اپنے اعمال پر غور کرو ۔ اگر یہ پیغمبر اور اس کے مٹھی بھر ساتھی ہلاک ہوگئے تو اس سے تمہیں کیا فائدہ ہوگا ؟