Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-A'raf 7:161

7:161
واذ قيل لهم اسكنوا هاذه القرية وكلوا منها حيث شيتم وقولوا حطة وادخلوا الباب سجدا نغفر لكم خطيياتكم سنزيد المحسنين ١٦١
وَإِذْ قِيلَ لَهُمُ ٱسْكُنُوا۟ هَـٰذِهِ ٱلْقَرْيَةَ وَكُلُوا۟ مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا۟ حِطَّةٌۭ وَٱدْخُلُوا۟ ٱلْبَابَ سُجَّدًۭا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيٓـَٔـٰتِكُمْ ۚ سَنَزِيدُ ٱلْمُحْسِنِينَ ١٦١
وَإِذۡ
قِيلَ
لَهُمُ
ٱسۡكُنُواْ
هَٰذِهِ
ٱلۡقَرۡيَةَ
وَكُلُواْ
مِنۡهَا
حَيۡثُ
شِئۡتُمۡ
وَقُولُواْ
حِطَّةٞ
وَٱدۡخُلُواْ
ٱلۡبَابَ
سُجَّدٗا
نَّغۡفِرۡ
لَكُمۡ
خَطِيٓـَٰٔتِكُمۡۚ
سَنَزِيدُ
ٱلۡمُحۡسِنِينَ
١٦١
And ˹remember˺ when it was said to them, “Enter this city ˹of Jerusalem˺ and eat from wherever you please. Say, ‘Absolve us,’ and enter the gate with humility. We will forgive your sins, ˹and˺ We will multiply the reward for the good-doers.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

اب ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ بنی اسرائیل اللہ کے انعامات و اکرامات کے جواب میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اور ان کے کج رو قدم کس طرح کی روش اختیار کرتے ہیں۔

۔۔۔

انہوں نے بچھڑے کی عبادت کی اور اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ انہوں نے اللہ کو دیکھنا چاہا اور زلزلے سے جان ہی چلی گئی۔ پھر اللہ نے انہیں معاف کرکے دوبارہ زندہ کیا۔ اللہ نے ان پر بہت بڑے انعامات کیے۔ لیکن دیکھیے ان کی کج رو طبیعت صراط مستقیم کی راہ پر جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بغیر جواز کے انہوں نے نافرمانی شروع کردی۔ بات کو بدلنے کی جسارت کی۔ انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ اس شہر میں داخل ہوجاؤ، یہ شہر تمہارا ہے ، یہ کون سا شہر تھا ، اس کا یہاں نام نہیں لیا گیا ، کیونکہ سیاق کلام میں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ شرط صرف یہ عائد کی گئی کہ اس شہر میں داخل ہوتے وقت ایک مخصوص دعا مخصوص کلمات کی صورت میں پڑھتے جاؤ، اور اس شہر میں داخل ہوتے وقت سجدہ ریز ہوتے جاؤ اور تمہیں جو فتح و نصرت عطا ہوئی اس پر شکر ادا کرو ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضور اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تھے اور آپ اپنی سواری کے اوپر سجدہ ریز تھے۔ ان لوگوں سے اللہ وعدہ کر رہے تھے کہ اگر تم اس حالت میں اس شہر میں داخل ہوگے تو اللہ تمہاری تمام غلطیاں معاف کردے گا اور اگر تم م میں سے کوئی مزید نیکی کا راستہ اختیار کرے گا تو اللہ مزید بارش کرے گا اپنے انعامات کی۔ لیکن ان لوگوں کی حالت یہ تھی کہ ان میں بعض نے گستاخانہ انداز میں دعا کے الفاظ ہی بدل دئیے اور بعض نے داخلے کے لیے مقرر شکل بدل دی۔ انہوں نے یہ نافرمانی کیوں کی ؟ الفاظ بدلنے یا سجدہ ریز نہ ہونے سے انہیں کیا فائدہ مل رہا تھا ؟ محض سرکشی اور کج مزاجی کی تسکین !