Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Buruj 85:1

85:1
والسماء ذات البروج ١
وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلْبُرُوجِ ١
وَٱلسَّمَآءِ
ذَاتِ
ٱلۡبُرُوجِ
١
By the sky full of constellations,
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

واقعہ اصحاب الاخدود کی طرف آنے سے قبل سورت کا آغاز اس قسم سے ہوتا ہے ” قسم ہے مضبوط قلعوں والے آسمان کی “۔” بروج “ سے مراد یا تو عظیم الجثہ اجرام فلکی ہیں ، گویا وہ آسمانوں کے عظیم الشان قلعے ہیں ، سورة ذاریات میں کہا گیا۔

والسماء .................... لموسعون (47:79) ” اور آسمان کو ہم نے ہاتھوں سے بنایا اور ہم بہت وسعت دینے والے ہیں “۔ اور سورة نازعات میں فرمایا :

ءانتم .................... بنھا (27:79) ” کیا تخلیق کے لحاظ سے تم مضبوط ہو یا آسمان جسے ہم نے بنایا “۔ اور یا بروج سے مراد وہ منزلیں ہیں جن کے اندر یہ اجرام گردش کرتے ہیں یعنی جب یہ اجرام اپنے ایک مدار کے اندر گردش کرتے ہیں اور اس سے سرموتجاوز نہیں کرسکتے اور بروج کے لفظ سے ان کی ضخامت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، یہاں اس سورت کی فضا پر ضخامت کا سایہ ڈالنا مقصود ہے۔