Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Buruj 85:12

85:12
ان بطش ربك لشديد ١٢
إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ ١٢
إِنَّ
بَطۡشَ
رَبِّكَ
لَشَدِيدٌ
١٢
Indeed, the ˹crushing˺ grip of your Lord is severe.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

یہاں اللہ کی پکڑ کو اس لئے شدید کہا گیا کہ اس زیر بحث واقعہ میں ان سرکشوں نے اہل ایمان کو جو سزا دی وہ ان کے خیال میں شدید سزا تھی۔ لوگوں کے خیال میں بھی شدید تھی لیکن یہاں کہا جاتا ہے کہ حقیقی پکڑ کر اللہ جبار وقہار کی پکڑ ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے ، ان لوگوں کی سزا کیا سزا ہوگی جو زمین سے ایک ٹکڑے پر ایک محدود سا اقتدار رکھتے ہوں اور جو خود بھی ضعیف اور حقیر ہیں اور ان کا اقتدار بھی محدود وقت کے لئے ہے۔

یہ بات یہاں نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ قائل رب تعالیٰ اور مخاطب حضرت محمد ﷺ کے درمیان تعلق کے اظہار کے لئے (ربک) کا لفظ لایا گیا ہے۔ یہ تمہارا رب ہے جس کی ربوبیت کی طرف آپ کی نسبت ہے اور جس کی امداد اور نصرت پر آپ کو بھروسہ ہے۔ اور جب فساق وفجار اہل ایمان پر تشدد کررہے ہوں تو ایسے حالات میں اللہ کے ساتھ تعلق ہی اہم سازوسامان ہوتا ہے۔