Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Buruj 85:16

85:16
فعال لما يريد ١٦
فَعَّالٌۭ لِّمَا يُرِيدُ ١٦
فَعَّالٞ
لِّمَا
يُرِيدُ
١٦
Doer of whatever He wills.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

یہ اللہ کی وہ صفت ہے جو ہر وقت سامنے آتی رہتی ہے۔ مسلسل روبعمل رہتی ہے۔ اللہ جو کچھ چاہے ، کر ڈالنے والا ہے۔ اس کا ارادہ بےقید ہے ، جو چاہتا ہے اختیار کرلیتا ہے ، جو چاہتا ہے ، کرتا ہے ، اور یہ صفت دائمی اور ابدی ہے ، یہ اللہ کی صفت ہے۔

بعض اوقات اللہ چاہتا ہے کہ اس دنیا ہی میں اہل ایمان کو فتح نصیب ہو اور اس میں کوئی حکمت ہوتی ہے ، بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ ایمان کو عذاب پر ترجیح ملتی ہے۔ فانی جسم تو چلے جاتے ہیں ، لیکن ایمان باقی رہتا ہے اور اس میں بھی حکمت ہوتی ہے۔ بعض اوقات وہ جباروں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور اس میں حکمت ہوتی ہے اور بعض اوقات ایسے ہی دوسرے جباروں کو مہلت دیتا ہے اور اس میں بھی حکمت ہوتی ہے۔ اس کے سب کام اس کی تقدیر کے مطابق حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔

یہ اللہ کی حکمتیں ہیں ، اخدودوالوں نے اہل ایمان کو ہلاک کردیا ، اور ان کو مہلت ملی اور فرعون اور ثمود کو اللہ نے ہلاک کیا۔ یہ سب واقعات اللہ کا ارادہ مطلقہ اور اس کی حکمت اور تقدیر کے مطابق ہوئے۔ اور اللہ کا بےقیدارادہ اسی طرح اس پوری کائنات میں انہیں حکمت کے مطابق کام کرتا ہے۔ اور اللہ جو چاہتا ہے ، کر گزرتا ہے ۔ اسی کا ایک نمونہ یوں ہے۔