Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Anfal 8:10

8:10
وما جعله الله الا بشرى ولتطمين به قلوبكم وما النصر الا من عند الله ان الله عزيز حكيم ١٠
وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِۦ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا ٱلنَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ١٠
وَمَا
جَعَلَهُ
ٱللَّهُ
إِلَّا
بُشۡرَىٰ
وَلِتَطۡمَئِنَّ
بِهِۦ
قُلُوبُكُمۡۚ
وَمَا
ٱلنَّصۡرُ
إِلَّا
مِنۡ
عِندِ
ٱللَّهِۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
عَزِيزٌ
حَكِيمٌ
١٠
And Allah made this a sign of victory and reassurance to your hearts. Victory comes only from Allah. Surely Allah is Almighty, All-Wise.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

مسلمان اللہ کے دربار میں زاری کر رہے تھے تو اللہ نے ان کو جواب دیا کہ میں ایک ہزار فرشتوں کی امداد تمہارے لیے بھیج رہا ہوں جو لگاتار نازل ہوتے رہیں گے۔ اس اعلان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ بہت عظیم تھا ، اور اللہ کے نزدیک اقامت دین کی بہت اہمیت تھی ، لیکن اللہ تعالیٰ یہاں اس بات کی وضاحت بار بار فرماتے ہیں کہ دنیا میں اسباب کی اس قدر اہمیت نہیں کہ ان سے تخلف ممکن نہ ہو۔ اصل اختیار اللہ کی مشیت کا ہوتا ہے۔ لہذا اسباب کے معاملے میں مومن کو اپنا ذہن صاف رکھنا چاہیے۔ اللہ کی جانب سے مدد کی قبولیت اور پھر اس کی اطلاع محض ایک خوشخبری تھی جس کے ذریعے مومنین کو اطمینان دلانا مقصود تھا۔ رہی نصرت تو وہ اللہ کی جانب سے تھی۔

یہ ہے وہ حقیقت جو یہاں قرآن مومنین کے ذہن نشین کرانا چاہتا ہے تاکہ وہ کلی تکیہ اسباب پر نہ کریں۔

مسلمانوں کا یہ فرض تھا کہ وہ اپنی پوری قوت کو اس معرکے میں جھونک دیں اور کچھ بھی باقی نہ رکھیں۔ ابتدائی طور پر بعض لوگوں کے اندر جو تزلزل پیدا ہوگیا تھا اس پر قابو پا لیں۔ کیونکہ اس وقت وہ واقعی اور حقیقی خطرے سے دوچار تھے۔ وہ اللہ کا حکم بجا لاتے ہوئے اگے بڑھیں اور اللہ کی نصرت پر یقین رکھیں۔ بس یہی ان کے لیے کافی تھا تاکہ وہ اپنے حصے کا کردار اچھی طرح ادا کرلی۔ آگے پھر قدرت الہیہ کا کام آتا ہے اور قدرت الہی اپنے معاملات کی تدبیر خود کرتی ہے۔ اس کے علاوہ جو اقدامات ہوئے اور اطلاعات دی گئیں وہ محض مسلمانوں کے اطمینان کے لیے ہیں۔ ان کے قدموں کو ثابت کرنے کے لیے تھیں کیونکہ وہ ایک حقیقی خطرے سے دوچار تھے۔ جماعت مسلمہ کے لیے یہ بات کافی تھی کہ اسے یہ اطمینان ہو کہ اللہ کے لشکر اس کے ساتھ ہیں اور یہ کہ نصرت ان کے لیے مقدر ہے۔ کیونک نصر اللہ کی جانب سے ہوتی ہے اور اللہ ان کے ساتھ ہے ، وہ عزیز ہے اور وہی غالب ہے ، وہی حکیم ہے اور وہ ہر بات کو اپنے حقیقی مقام پر رکھتا ہے۔