Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Anfal 8:44

8:44
واذ يريكموهم اذ التقيتم في اعينكم قليلا ويقللكم في اعينهم ليقضي الله امرا كان مفعولا والى الله ترجع الامور ٤٤
وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ ٱلْتَقَيْتُمْ فِىٓ أَعْيُنِكُمْ قَلِيلًۭا وَيُقَلِّلُكُمْ فِىٓ أَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِىَ ٱللَّهُ أَمْرًۭا كَانَ مَفْعُولًۭا ۗ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ ٤٤
وَإِذۡ
يُرِيكُمُوهُمۡ
إِذِ
ٱلۡتَقَيۡتُمۡ
فِيٓ
أَعۡيُنِكُمۡ
قَلِيلٗا
وَيُقَلِّلُكُمۡ
فِيٓ
أَعۡيُنِهِمۡ
لِيَقۡضِيَ
ٱللَّهُ
أَمۡرٗا
كَانَ
مَفۡعُولٗاۗ
وَإِلَى
ٱللَّهِ
تُرۡجَعُ
ٱلۡأُمُورُ
٤٤
Then when your armies met, Allah made them appear as few in your eyes, and made you appear as few in theirs, so Allah may establish what He had destined. And to Allah ˹all˺ matters will be returned ˹for judgment˺.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

اب جب فوجیں آمنے سامنے میدان بدر میں تیار کھڑی ہیں تو حضور کا سچا خواب پھر سامنے آتا ہے اور یہ جانبین کی صٖ آرائی کی حالت میں آتی ہے۔ یہ بھی اللہ کی تدابیر میں سے ایک خاص تدبیر تھی۔ اللہ ان کو یاد دلاتا ہے کہ ذرا اس کو دوبارہ پیش نظر رکھو ، اس معرکے کے واقعات پر تبصرے کے دوران یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ۔ اور یاد کرو جب کہ مقابلے کے وقت خدا نے تم لوگوں کی نگاہوں میں دشمنوں کو تھوڑا دکھایا اور ان کی نگاہوں میں تمہیں کم کرکے پیش کیا تاکہ جو بات ہونی تھی ، اسے اللہ ظہور میں لے آئے اور آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع ہوتے ہیں "

تدابیر الہیہ میں سے اہم تدابیر یہ تھی کہ یہ معرکہ ٹل نہ جائے اور فریقین اس معرکے کے لیے آمادہ ہوجائیں۔ مسلمان جو دشمنوں کو قلیل دیکھ رہے تھے تو یہ دشمنوں کو ان کی حقیقت کے اعتبار سے دیکھ رہے تھے۔ اور کفار جو مسلمانوں کو قلیل دیکھ رہے تھے تو یہ بھی ظاہری آنکھ کے اعتبار سے دیکھ رہے تھے۔ دونوں کی نگاہ اپنے اپنے زاویہ سے تھی ، دونوں میں تدبیر الہی کے مقاصد کام کر رہے تھے۔ یوں یہ واقعات امر الہی اور منشائے الہی کے مطابق رونما ہوئے۔

والی اللہ ترجع الامور " اور آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع ہوتے ہیں " یہ تبصرہ اس حققت کے اظہار کے لیے نہایت ہی مناسب ہے کہ تمام نتائج قضا و قدر کے نظآم کے مطابق باہر ہوتے ہیں۔ تمام امور کا مرجع اللہ ہے ، وہ جس طرح چاہتا ہے اپنی کائنات میں تصرف کرتا ہے ، اپنے اقتدار ، اور اپنے ارادے اور اپنی قدرت و حکمت کے ساتھ اور اس کائنات میں کوئی بات بھی اللہ کی تقدیر کے تقاضوں کے سوا ظہور پذیر نہیں ہوسکتی۔

۔۔۔