Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Anfal 8:74

8:74
والذين امنوا وهاجروا وجاهدوا في سبيل الله والذين اووا ونصروا اولايك هم المومنون حقا لهم مغفرة ورزق كريم ٧٤
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهَاجَرُوا۟ وَجَـٰهَدُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلَّذِينَ ءَاوَوا۟ وَّنَصَرُوٓا۟ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ حَقًّۭا ۚ لَّهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَرِزْقٌۭ كَرِيمٌۭ ٧٤
وَٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَهَاجَرُواْ
وَجَٰهَدُواْ
فِي
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
وَٱلَّذِينَ
ءَاوَواْ
وَّنَصَرُوٓاْ
أُوْلَٰٓئِكَ
هُمُ
ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
حَقّٗاۚ
لَّهُم
مَّغۡفِرَةٞ
وَرِزۡقٞ
كَرِيمٞ
٧٤
Those who believed, migrated, and struggled in the cause of Allah, and those who gave ˹them˺ shelter and help, they are the true believers. They will have forgiveness and an honourable provision.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

اس کے بعد قرآن کریم صریح الفاظ میں ان کو بتاتا ہے کہ حقیقی ایمان کا تحقق یوں ہوتا ہے

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے خطاؤں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے۔

وہی سچے مومن ہیں ، بلکہ وہی مومن ہیں ، کے الفاظ پر غور کریں۔ گویا ایمان کی حقیقی صورت یہی ہے۔ اور اسی صورت میں اور اسی شکل میں حققی دین نشوونما پاتا ہے۔ دین اسلام کی حقیقت محض اعلان نظریہ سے وجود میں نہیں آتی۔ نہ مجرد عقیدے کو قبول کرلینے سے دین کی حقیقت وجود میں آجاتی ہے ، نہ صرف دین کے شعائر اور مراسم عبودیت کے بجا لانے ہی سے دین وجود میں آجاتا ہے۔ یہ دین ایک ایسا نظام حیات ہے اور وہ عملاً تب ہی وجود میں آتا ہے کہ جب وہ اجتماعی تحریکی معاشرے کی شکل میں وجود میں آئے۔ صرف عقیدے کی صورت میں اقرار سے حکماً تو دین وجود میں آجاتا ہے لیکن حقیقتاً وجود میں نہیں آتا۔ حقیقتاً تب وجود میں آتا ہے جب وہ ایک عملی تحریکی معاشرے اور اجتماعیت کی شکل اختیار کرے۔

ایسے ہی لوگ حقا مومن ہیں اور ان کے لیے مغفرت اور رزق کریم واجب ہے۔ یہاں رزق کریم کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہاں جہاد فی سبیل اللہ ، انفاق فی سبیل اللہ ، پناہ گاہ کی فراہمی اور امداد کی فراہمی اور دوسری مشکلات کا موضوع چل رہا ہے اور ان سب کاموں کے اوپر اجر و صلہ اللہ کی مغفرت ہے جو عظیم انعام اور مہمان نوازی ہے۔