Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Ad-Duhaa 93:10

93:10
واما السايل فلا تنهر ١٠
وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْ ١٠
وَأَمَّا
ٱلسَّآئِلَ
فَلَا
تَنۡهَرۡ
١٠
nor repulse the beggar.1
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 93:9 to 93:11

فاما ........................................ فحدث

یہ ہدایات کہ یتیم کا اکرام کرو ، اس پر سختی نہ کرو ، اس کی دل شکنی نہ کرو ، سائل کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو ، سائل کی عزت کرو۔ یہ ہدایات مکہ کی نہایت ہی منکر حق اور دولت پرست ، سوسائٹی میں بہت ضروری تھیں ، جس میں ضعیف اور قوت نہ رکھنے والا شخص اپناحق حاصل نہ کرسکتا تھا ، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون تھا ، لیکن جب اسلامی نظام نافذ ہوا تو اسلامی شریعت نے اس سوسائٹی کو حق پرست اور عدالت گستر سوسائٹی بنا دیا ، لوگ نہایت محتاط ہوگئے ، اللہ کے حدود پر رکنے لگے۔ اور وہ ایک طرف حدود اللہ کو قائم کرنے لگے اور دوسری طرف حقوق العباد کے محافظ ہوگئے ، خصوصاً ایسے لوگوں کے حقوق کے محافظ ہوگئے جن کے پاس قوت نہ تھی ، جو تلوار کے ذریعہ اپنا حق نہیں لے سکتے تھے۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ احسان کرنے سے نعمت کا شکر ادا ہوتا ہے اور اس سے نعمت پاک بھی ہوتی ہے اور عملاً شکر کی ادائیگی بھی ہوتی ہے۔ اور خاموش گفتگو اور شریفانہ گفتگو بھی شکرالٰہی ہوتا ہے۔