Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: At-Tin 95:7

95:7
فما يكذبك بعد بالدين ٧
فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِٱلدِّينِ ٧
فَمَا
يُكَذِّبُكَ
بَعۡدُ
بِٱلدِّينِ
٧
Now, what makes you deny the ˹final˺ Judgment?
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 95:7 to 95:8

“ اے نبی ان حقائق کے ہوتے ہوئے کیا کوئی معقول شخص عقیدہ آخرت کے بارے میں آپ کو کوئی جھٹلا سکتا ہے ، خصوصاً جب کہ انسانیت کی قدروقیمت ایمان کا بڑا مقام ہے اور یہ معلوم ہوجانے کے بعد کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کا انجام کس قدر گھناﺅنا ہے جو نور سے محروم ہوتے ہیں اور جن کے ہاتھوں سے اللہ کی مضبوط رسی چھوٹ چکی ہوتی ہے۔

الیس اللہ ................ الحکمین (8:95) ” کیا اللہ سب حاکموں میں سے بڑا حاکم نہیں ہے “۔ کہ وہ سب سے بڑا منصف نہیں ہے ، جبکہ وہ لوگوں کے درمیان یوں انصاف کررہا ہے۔ کیا مومنین کا انجام اور کافرین کا یہ انجام حکمت بالغہ پر مبنی نہیں ہے ؟ انصاف واضح ہے ، حکمت نہایت بلند ہے ، یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوع حدیث روایت ہے کہ جب تم میں سے کسی نے سورة تین اور زیتون کو پڑھا اور وہ آخر تک پڑھ چکا اور اس نے پڑھا۔

الیس اللہ ................ الحکمین (8:95) ” تو اسے کہنا چاہئے ” ہاں اور میں اس پر شہادت دینے والوں میں سے ہوں “۔