Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: At-Tawbah 9:104

9:104
الم يعلموا ان الله هو يقبل التوبة عن عباده وياخذ الصدقات وان الله هو التواب الرحيم ١٠٤
أَلَمْ يَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ ٱلتَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِۦ وَيَأْخُذُ ٱلصَّدَقَـٰتِ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ ١٠٤
أَلَمۡ
يَعۡلَمُوٓاْ
أَنَّ
ٱللَّهَ
هُوَ
يَقۡبَلُ
ٱلتَّوۡبَةَ
عَنۡ
عِبَادِهِۦ
وَيَأۡخُذُ
ٱلصَّدَقَٰتِ
وَأَنَّ
ٱللَّهَ
هُوَ
ٱلتَّوَّابُ
ٱلرَّحِيمُ
١٠٤
Do they not know that Allah alone accepts the repentance of His servants and receives ˹their˺ charity, and that Allah alone is the Accepter of Repentance, Most Merciful?
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ یاخذ الصدقات کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور ان کے صدقات کو (قبول کے ہاتھوں سے) لے لیتا ہے۔ یعنی اس طرح قبول کرلیتا ہے جیسے کوئی کسی چیز کو معاوضہ ادا کرنے کیلئے لے لیتا ہے۔

حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جو بندہ پاک کمائی سے خیرات کرتا ہے ‘ اور اللہ صرف پاک (کمائی کی خیرات) کو ہی قبول فرماتا ہے اور آسمان کی طرف پاک (کلام ‘ عمل ‘ خیرات) کو ہی عروج نصیب ہوتا ہے تو وہ گویا اس خیرات کو اللہ کے ہاتھ میں رکھتا ہے ‘ اللہ اپنے ہاتھ میں اس کو (اس طرح) بڑھاتا ہے جس طرح تم اپنے بچے کو (اس کی پشت پر ہاتھ پھیر پھیر کر) پرورش کرتے ہو یہاں تک کہ ایک لقمہ قیامت کے دن بڑے پہاڑ کے برابر ہو کر سامنے آئے گا۔ یہ فرمانے کے بعد حضور (ﷺ) نے آیت اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَأخُذُ الصَّدَقٰتِ تلاوت فرمائی۔ رواہ الشافعی۔

صحیحین کی روایت بھی اسی روایت کی ہم معنی ہے ‘ اس میں اتنا اور ہے کہ جو شخص پاک کمائی سے ایک چھوارے برابر خیرات کرتا ہے اور اللہ پاک کو ہی قبول کرتا ہے تو اللہ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کو قبول فرما لیتا ہے الخ۔

وان اللہ ھو التواب الرحیم اور اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا ‘ رحم کرنے والا ہے۔ یعنی توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرنا اور ان پر مہربانی کرنا اس کی شان ہے۔