Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: At-Tawbah 9:46

9:46
۞ ولو ارادوا الخروج لاعدوا له عدة ولاكن كره الله انبعاثهم فثبطهم وقيل اقعدوا مع القاعدين ٤٦
۞ وَلَوْ أَرَادُوا۟ ٱلْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا۟ لَهُۥ عُدَّةًۭ وَلَـٰكِن كَرِهَ ٱللَّهُ ٱنۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيلَ ٱقْعُدُوا۟ مَعَ ٱلْقَـٰعِدِينَ ٤٦
۞ وَلَوۡ
أَرَادُواْ
ٱلۡخُرُوجَ
لَأَعَدُّواْ
لَهُۥ
عُدَّةٗ
وَلَٰكِن
كَرِهَ
ٱللَّهُ
ٱنۢبِعَاثَهُمۡ
فَثَبَّطَهُمۡ
وَقِيلَ
ٱقۡعُدُواْ
مَعَ
ٱلۡقَٰعِدِينَ
٤٦
Had they ˹really˺ intended to march forth, they would have made preparations for it. But Allah disliked that they should go, so He let them lag behind, and it was said ˹to them˺, “Stay with those ˹helpless˺ who remain behind.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

اس موقعہ پر جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ لشکر کشی کی قدرت رکھتے تھے۔ ان کے پاس وسائل سفر موجود تھے ، سازوسامان بھی موجود تھا۔

وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا : " اگر واقعی ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو وہ اس کے لیے کچھ تیاری کرتے " ایسے لوگوں کے سرخیل عبداللہ ابن ابی ابن سلول تھے ، جد ابن قیس بھی ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ یہ اپنے قبائل کے معتبرین میں سے تھے اور با اثر اور مالدار تھے۔

وَّلٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِيْنَ : " لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ تھا۔ اس لیے اس نے انہیں سست کردیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھ رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ "

اللہ کو ان لوگوں کے مزاج اور ان کے نفاق کا علم تھا اور ان لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف بغض و عداوت جس طرح کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اس کا تذکرہ آگے آ رہا ہے۔ اس لیے اللہ نے انہیں اس موقع پر بٹھا دیا اور ان کی ہمت ہی ختم کردی۔ یہ لوگ گھروں اور عورتوں کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ بچوں اور ناداروں کے ساتھ وہ پیچھے رہ گئے جو حقیقتاً اس لشکر میں جانے کی طاقت و وسائل نہ رکھتے تھے۔ لہذا گری ہوئی ہمتوں ور کمزور یقین رکھنے والوں کے لیے بہتر یہی تھا کہ وہ بیٹھے رہیں اور اس اعزاز سے محروم رہیں۔ اور اس میں دعوت اسلامی کی بھلائی تھی۔