Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: At-Tawbah 9:62

9:62
يحلفون بالله لكم ليرضوكم والله ورسوله احق ان يرضوه ان كانوا مومنين ٦٢
يَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ وَٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَحَقُّ أَن يُرْضُوهُ إِن كَانُوا۟ مُؤْمِنِينَ ٦٢
يَحۡلِفُونَ
بِٱللَّهِ
لَكُمۡ
لِيُرۡضُوكُمۡ
وَٱللَّهُ
وَرَسُولُهُۥٓ
أَحَقُّ
أَن
يُرۡضُوهُ
إِن
كَانُواْ
مُؤۡمِنِينَ
٦٢
They swear by Allah to you ˹believers˺ in order to please you, while it is the pleasure of Allah and His Messenger they should seek, if they are ˹true˺ believers.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

یہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھا کر تم کو راضی کرنا چاہتے ہیں اور منافقین کا ہر دور میں یہی وطیرہ رہا ہے۔ یہ لوگ ہمیشہ کہتے کچھ ین اور کرتے کچھ ہیں۔ سامنے ان کا رویہ اور ہوتا ہے اور پیٹھ پیچھے ان کا رویہ اور ہوتا ہے۔ پھر ایک وقت یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ مومنین صادقین کے ساتھ آنکھیں بھی نہیں ملا سکتے۔ نہ ان کے ساتھ بات کرسکتے ہیں چناچہ پھر وہ قسموں کا سہارا لے کر چاپلوسی اور ذلت اختیار کرکے لوگوں کی رضامندی حاصل کرتے ہیں۔ لیکن ، اگر یہ سچے مومن ہیں تو اللہ و رسول اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ یہ ان کو راضی کرنے کی فکر کریں۔ کیونکہ لوگوں کا مقام ہی کیا ہے ؟ لوگوں کی حیثیت ہی کیا ہے ؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ پر ایمان نہیں لاتا اور اس کے سامنے نہیں جھکتا ، وہ لوگوں پر ایمان لاتا ہے اور اپنے جیسے انسان سے ڈرتا ہے۔ ان کے لیے بہتر تو یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ کے سامنے سرنگوں ہوتے جو سب کا خدا ہے۔ اس میں ان کے لیے کوئی ذلت نہیں ہے۔ ذلت تو اس میں ہے کہ کوئی اپنے جیسے انسان کے سامنے جھکے جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے۔ وہ جھوٹا نہیں ہوتا بلکہ جو شخص اللہ کے سوا دوسروں سے ڈرتا ہے وہ جھوٹا ہوتا ہے۔