Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-A'raf 7:139

7:139
ان هاولاء متبر ما هم فيه وباطل ما كانوا يعملون ١٣٩
إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ مُتَبَّرٌۭ مَّا هُمْ فِيهِ وَبَـٰطِلٌۭ مَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١٣٩
إِنَّ
هَٰٓؤُلَآءِ
مُتَبَّرٞ
مَّا
هُمۡ
فِيهِ
وَبَٰطِلٞ
مَّا
كَانُواْ
يَعۡمَلُونَ
١٣٩
What they follow is certainly doomed to destruction and their deeds are in vain.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم کو سمجھاتے ہیں کہ جس بت پرستی میں وہ پڑے ہوئے ہیں وہ نہایت ہی بری چیز ہے اور ان کی جانب سے یہ سراسر غیر معقول مطالبہ ہے ، کیا تم ایسے لوگوں کی پیروی کرتے ہو جو خود ہلاک و برباد ہونے والے ہیں ؟ اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ تو برباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کر رہے ہیں وہ سراسر باطل ہے "

یہ شرک و بت پرستی ، یہ بتوں کی پوجا پاٹ ، یہ بت پرستانہ تہذیب و تمدن جس میں کئی رب ہوں اور ان ارباب کے نیچے پھر مسند نشستیں اور مذہبی لیڈر ہوں اور حاکم و محکوم ہوں اور وہ بت پرستی سے اپنے حقوق کا تعین کرتے ہوں۔ یہ تمام خرافات اور توہمات زندگی کے فاسد تصور پر مبنی ہیں اور باطل اور بےاصل ہیں۔ اور ان تصورات اور اعمال نے دنیا سے ختم ہونا ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے ہلاکت ہے۔