Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-A'raf 7:14

7:14
قال انظرني الى يوم يبعثون ١٤
قَالَ أَنظِرْنِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ١٤
قَالَ
أَنظِرۡنِيٓ
إِلَىٰ
يَوۡمِ
يُبۡعَثُونَ
١٤
He appealed, “Then delay my end until the Day of their resurrection.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 7:13 to 7:15
نافرمانی کی سزا ٭٭

ابلیس کو اسی وقت حکم ملا کہ ”میری نافرمانی اور میری اطاعت سے رکنے کے باعث اب تو یہاں جنت میں رہ نہیں سکتا، یہاں سے اتر جا کیونکہ یہ جگہ تکبر کرنے کی نہیں۔“

بعض نے کہا ہے: «فیھا» کی ضمیر کا مرجع منزلت ہے یعنی جن ملکوت اعلی میں تو ہے، اس مرتبے میں کوئی سرکش رہ نہیں سکتا۔ جا یہاں سے چلا جا۔ تو اپنی سرکشی کے بدلے ذلیل و خوار ہستیوں میں شامل کر دیا گیا۔ تیری ضد اور ہٹ دھرمی کی یہی سزا ہے۔

اب لعین گھبرایا اور اللہ سے مہلت چاہنے لگا کہ مجھے قیامت تک کی ڈھیل دی جائے۔ چونکہ جناب باری جل جلالہ کی اس میں مصلحتیں اور حکمتیں تھیں، بھلے بروں کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا اور اپنی حجت پوری کرنا تھی۔ اس ملعون کی اس درخواست کو منظور فرما لیا۔ اس حاکم پر کسی کی حکومت نہیں، اس کے سامنے بولنے کی کسی کو مجال نہیں، کوئی نہیں جو اس کے ارادے کو ٹال سکے، کوئی نہیں جو اس کے حکم کو بدل سکے۔ وہ سریع الحساب ہے۔

صفحہ نمبر2865