Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Baqarah 2:123

2:123
واتقوا يوما لا تجزي نفس عن نفس شييا ولا يقبل منها عدل ولا تنفعها شفاعة ولا هم ينصرون ١٢٣
وَٱتَّقُوا۟ يَوْمًۭا لَّا تَجْزِى نَفْسٌ عَن نَّفْسٍۢ شَيْـًۭٔا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌۭ وَلَا تَنفَعُهَا شَفَـٰعَةٌۭ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ ١٢٣
وَٱتَّقُواْ
يَوۡمٗا
لَّا
تَجۡزِي
نَفۡسٌ
عَن
نَّفۡسٖ
شَيۡـٔٗا
وَلَا
يُقۡبَلُ
مِنۡهَا
عَدۡلٞ
وَلَا
تَنفَعُهَا
شَفَٰعَةٞ
وَلَا
هُمۡ
يُنصَرُونَ
١٢٣
And guard yourselves against the Day when no soul will be of any help to another. No ransom will be taken, no intercession accepted, and no help will be given.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 2:122 to 2:123
انتباہ ٭٭

پہلے بھی اس جیسی آیت شروع سورت میں گزر چکی ہے اور اس کی مفصل تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے یہاں صرف تاکید کے طور پر ذکر کیا گیا اور انہیں نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کی رغبت دلائی گئی جن کی صفتیں وہ اپنی کتابوں میں پاتے تھے جن کا نام اور کام بھی اس میں لکھا ہوا تھا بلکہ ان کی امت کا ذکر بھی اس میں موجود ہے پس انہیں اس کے چھپانے اور اللہ کی دوسری نعمتوں کو پوشیدہ کرنے سے ڈرایا جا رہا ہے اور دینی اور دنیوی نعمتوں کو ذکر کرنے کا کہا جا رہا ہے اور عرب میں جو نسلی طور پر بھی ان کے چچا زاد بھائی ہیں اللہ کی جو نعمت آئی ان میں جس خاتم الانبیاء کو اللہ نے مبعوث فرمایا ان سے حسد کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور تکذیب پر آمادہ نہ ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

صفحہ نمبر477