Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Baqarah 2:137

2:137
فان امنوا بمثل ما امنتم به فقد اهتدوا وان تولوا فانما هم في شقاق فسيكفيكهم الله وهو السميع العليم ١٣٧
فَإِنْ ءَامَنُوا۟ بِمِثْلِ مَآ ءَامَنتُم بِهِۦ فَقَدِ ٱهْتَدَوا۟ ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا هُمْ فِى شِقَاقٍۢ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ ٱللَّهُ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ١٣٧
فَإِنۡ
ءَامَنُواْ
بِمِثۡلِ
مَآ
ءَامَنتُم
بِهِۦ
فَقَدِ
ٱهۡتَدَواْۖ
وَّإِن
تَوَلَّوۡاْ
فَإِنَّمَا
هُمۡ
فِي
شِقَاقٖۖ
فَسَيَكۡفِيكَهُمُ
ٱللَّهُۚ
وَهُوَ
ٱلسَّمِيعُ
ٱلۡعَلِيمُ
١٣٧
So if they believe in what you believe, then they will indeed be ˹rightly˺ guided. But if they turn away, they are simply opposed ˹to the truth˺. But Allah will spare you their evil. For He is the All-Hearing, All-Knowing.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 2:137 to 2:138
شرط نجات ٭٭

یعنی اپنے ایماندار صحابیو! اگر یہ کفار بھی تم جیسا ایمان لائیں یعنی تمام کتابوں اور رسولوں کو مان لیں تو حق و رشد ہدایت ونجات پائیں گے اور اگر باوجود قیام حجت کے باز رہیں تو یقیناً حق کے خلاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ تجھے ان پر غالب کر کے تمہارے لیے کافی ہو گا، وہ سننے جاننے والا ہے۔ نافع بن نعیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی خلیفہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ کا قرآن بھیجا گیا زیاد نے یہ سن کر کہا کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو لوگوں نے شہید کیا اس وقت یہ کلام اللہ ان کی گود میں تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کا خون ٹھیک ان الفاظ پڑھا تھا آیت «فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ ۚ وَھُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [ 2۔ البقرہ: 137 ] ‏ کیا یہ صحیح ہے؟ حضرت نافع رحمہ اللہ علیہ نے کہا بالکل ٹھیک ہے میں نے خود اس آیت پر ذوالنورین کا خون دیکھا تھا [ رضی اللہ عنہما ] ‏۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:402/1] ‏ رنگ سے مراد دین ہے اور اس کا زبر بطور اغراء کے ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:402/1] ‏ جسے «فطرۃ اللہ» میں۔ [30-الروم:3] ‏ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین کو لازم پکڑ لو اس پر چمٹ جاؤ۔ بعض کہتے ہیں یہ بدل ہے ملتہ ابراہیم سے جو اس سے پہلے موجود ہے۔ سیبویہ کہتے ہیں یہ صدر موکد ہے۔ امنا باللہ کی وجہ سے منصوب ہے جیسے «‏وَعْدَ اللَّـهِ ۖ» [30-الروم:6] ‏ ایک مرفوع حدیث ہے”بنی اسرائیل نے کہا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہمارا رب رنگ بھی کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرو آواز آئی ان سے کہہ دو کہ تمام رنگ میں ہی تو پیدا کرتا ہوں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:403/1] ‏“یہی مطلب اس آیت کا بھی ہے لیکن اس روایت کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے اور یہ بھی اس وقت جب کہ اس کی اسناد صحیح ہوں۔

صفحہ نمبر544