Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Furqan 25:24

25:24
اصحاب الجنة يوميذ خير مستقرا واحسن مقيلا ٢٤
أَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌۭ مُّسْتَقَرًّۭا وَأَحْسَنُ مَقِيلًۭا ٢٤
أَصۡحَٰبُ
ٱلۡجَنَّةِ
يَوۡمَئِذٍ
خَيۡرٞ
مُّسۡتَقَرّٗا
وَأَحۡسَنُ
مَقِيلٗا
٢٤
˹But˺ on that Day the residents of Paradise will have the best settlement and the finest place to rest.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 25:21 to 25:24

جو لوگ داعی کے پیغام کو ماننے کے ليے فرشتے اور خدا کے ظہور کا مطالبہ کریں وہ کوئی واقعی بات نہیں کہتے۔ وہ صرف اپنی غیر سنجیدگی کا ثبوت دیتے ہیں۔ انھیں معلوم نہیں کہ خدا اور فرشتوں کا ظہور کیا معنی رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ليے بولنے کا جو موقع ہے وہ صرف اسی وقت تک ہے جب تک حق کو داعی کی سطح پر ظاہر کیا گیا ہو۔ جب حق خدا اور فرشتوں کی سطح پر ظاہر ہو جائے تو وہ فیصلہ کا وقت ہوتا ہے، نہ کہ ماننے اور تصدیق کرنے کا۔

بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں رہتے ہیں کہ قیامت میں جب خدا پوچھے گا کہ کیا لائے تو میں اپنا فلاں عمل پیش کردوں گا۔ میں کہوں گا کہ فلاں اور فلاں بزرگوں کی نسبت مجھے حاصل ہے۔ مگر قیامت کے آتے ہی اس قسم کی خوش خیالیاں اس طرح بے حقیقت ثابت ہوں گی جیسے گرم لوہے پر پانی کا قطرہ پڑے اور فوراً اڑ جائے۔ اس دن صرف حقیقی عمل کسی کے کام آئے گا، نہ کہ کسی قسم کی جھوٹی خوش خیالی۔