Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Hijr 15:52

15:52
اذ دخلوا عليه فقالوا سلاما قال انا منكم وجلون ٥٢
إِذْ دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَقَالُوا۟ سَلَـٰمًۭا قَالَ إِنَّا مِنكُمْ وَجِلُونَ ٥٢
إِذۡ
دَخَلُواْ
عَلَيۡهِ
فَقَالُواْ
سَلَٰمٗا
قَالَ
إِنَّا
مِنكُمۡ
وَجِلُونَ
٥٢
who entered upon him and greeted ˹him with˺, “Peace!” He ˹later˺ said, “Surely we are afraid of you.”1
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 15:51 to 15:56

حضرت ابراہیم کے پاس فرشتے انسانی صورت میںآئے۔ سوال وجواب کے دوران انھوںنے کہا کہ ہم حق کے ساتھ آئے ہیں۔ یہ حق (امر واقعی) کیا تھا جس کے لیے فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس آئے۔ یہ ایک غیر معمولی انعام کی بشارت تھی جس کی عام حالات میں توقع نہیں کی جاسکتی۔ انسان پر جب خدا کوئی غیر معمولی انعام کرنا چاہتا ہے تو اس کی تکمیل کے لیے وہ اس کے پاس خصوصی فرشتے بھیجتاہے۔

اس قسم کے فرشتے پیغمبروں کے پاس بھی آتے ہیں اور غیر پیغمبروں کے پاس بھی۔ فرق یہ ہے کہ پیغمبر کے پاس فرشتے آتے ہیں تو وہ ان کو دیکھتا ہے اور شعوری طورپر واقف ہوتا ہے کہ یہ فرشتے ہیں۔ مگر عام انسان کو اس قسم کا یقینی ادراک نہیں ہوتا۔ البتہ فرشتوں کی خصوصی قربت اس کے اندر خصوصی کیفیات پیدا کردیتی ہے۔ یہ کیفیات گویا اس کا اشارہ ہوتی ہیں کہ اس وقت آدمی خداکے بھیجے ہوئے خصوصی فرشتوں کی صحبت میں ہے۔